سنلقی فی قلوبھم الرعب قل جآء کم نور من اللّٰہ۔فلاؔ تکفروا ان کنتم مؤمنین والذین اٰمنوا ولم یلبسواایمانھم بظلم اولٰئک لھم الامن وھم مھتدون ویخوفونک من دونہٖ ائمۃ الکفر تبت یداابی لھب وتب ما کان لہ ان یدخل فیھا الا خائفا وما اصابک فمن اللّٰہ الفتنۃ ھٰھنا فاصبر کما صبر اولوؔ العزم الا انھا فتنۃ من اللّٰہ۔لیحب حبا جما حبا من اللّٰہ العزیز الاکرم فی اللّٰہ اجرک ویرضٰی عنک ربک ویتم اسمک وان لم یعصمک الناس فیعصمک اللّٰہ من عندہ
اور پھر بعد اس کے فرمایا ہے کہ ہم نے اس مامور کو مع اپنے نشانوں اور عجائبات کے قادیان کے قریب اُتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اُتارا اور سچائی کے ساتھ اُترا۔اللہ اور اس کے رسول کے وعدے جو قرآن اور حدیث میں تھے آج سچے ہو گئے اور خدا تعالیٰ کاوعدہ اور امر ایک دن پورا ہونا ہی تھا اور کہیں گے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے جو آپ بنا لیا اور ہم نے اپنے سلف صالح سے اس کو نہیں سُنا۔ان کو کہہ کہ خدا تعالیٰ کی شان عجیب ہے تم اس کے اسرار تک پہنچ نہیں سکتے جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے اس کے پاس اپنے بندوں کی کچھ کمی نہیں اور اس کے کاموں کی اس سے کوئی باز پرس نہیں کر سکتاکہ ایسا کیوں کیا اور ایساکیوں نہیں کیا اور وہ اپنے بندوں کے افعال و اقوال کی باز پُرس کرتا ہے اور عنقریب ہم ان کے دلوں پر رُعب ڈال دیں گے ان کو کہہ دے کہ یہ نوراللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اگر تم مومن ہو تو اس سے انکار مت کرو اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ظلم کو نہیں ملایا وہ امن کی حالت میں ہیں اور وہی ہدایت یافتہ ہیں اور منکروں کے پیشوا تجھے ڈرائیں گے ہلاک ہوئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے اور آپ بھی ہلاک ہوا اسے نہیں چاہیئے تھا کہ اس معاملہ میں دلیری سے اپنے تئیں داخل کرتا بلکہ ڈرتا اور جو کچھ تجھے لوگوں کی باتوں سے آزار پہنچے گا وہ درحقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گا۔اس جگہ ابی لہب سے مراد ایسے لوگ ہیں کہ جو مخالفانہ تحریروں کے لئے بغیر بصیرت کاملہ