کچھ منکرانہ جوش دل میں اُٹھتا ہے و ہذا اعجب العجائب اور الہامات جو اس بار ہ میں براہین میں درج ہیں وہ صفحات نمبر ۲۳۸،۲۳۹،۲۴۰،۴۴۷،۴۹۸ ، ۵۰۵ ،۵۱۰ ، ۵۱۱ ، ۵۱۳ ، ۵۱۴ ،۵۵۶ ، ۵۵۹ ، ۵۶۰ ،۵۶۱ میں مندرج ہیں جن کی عبارتیں یہؔ ہیں۔
یا احمد بارک اللہ فیک مارمیت اذرمیت ولٰکن اللّٰہ رمٰی ا لرحمٰن علم القراٰن لتنذر قوما ما انذر اٰباؤھم و لتستبین سبیل المجرمین قل انّی امرت وانا اوّل المؤمنین یاعیسٰی انّی متوفیک ورافعک الیّ وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفرواالٰی یوم القیٰمۃ ھو الذی ارسل رسولہ بالھُدٰی و دین الحق لیظھرہ علی الدّین کلّہ لا مبدل لکلمات اللّٰہ اناانزلناہ قریبًا من القادیان وؔ بالحق انزلناہ وبالحق نزل صدق اللّٰہ ورسولہ وکان امراللّٰہ مفعولا وقالواان ھو الا افک نافترٰی وما سمعنا بھذا فی اٰبائنا الاوّلین قل ھو اللّٰہ عجیب یجتبٰی من یشآء من عبادہ۔ لا یسئل عما یفعل و ھم یسئلون
اے احمد خدائے تعالیٰ نے تجھ میں برکت ڈال دی ہے جو کچھ تو نے چلایا جبکہ چلایا یہ تُو نے نہیں بلکہ خدانے چلایا ہے وہی رحمٰن ہے جس نے قرآن تجھے سکھایا تا تو ان لوگوں کو ڈراوے جن کے باپ دادے ڈرائے نہیں گئے اور تا مجرموں کی راہ صاف طور پرکھل جاوے یعنی تا معلوم ہو جاوے کہ کون لوگ تیرا ساتھ اختیار کرتے ہیں اور کو ن لو گ بغیر بصیر ت کامل کے مخالفت پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور سب لوگوں کو کہہ دے کہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے حَکم کیاگیا ہوں اور سب سے پہلا وہ آدمی ہوں جو اس حکم پر ایمان لایا۔اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گااور اپنی طرف اُٹھاؤں گااور و ہ جو تیرے تابع ہوئے ہیں میں انہیں اُن دوسرے لوگوں پر جو تیرے منکر ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا۔خدا وہ قادر ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچائی دین دے کر بھیجا تا سب دینوں پر حجت کی رُو سے اُس کو غالب کرے۔(یہ وہ پیشگوئی ہے جو پہلے سے قرآن شریف میں انہیں دنوں کے لئے لکھی گئی ہے ) پھر بعد اس کے الہام الٰہی کا یہ ترجمہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے ان وعدوں کو جو پہلے سے اس کی پاک کلام میں آچکے ہیں کوئی بدل نہیں سکتا یعنی وہ ہرگز ٹل نہیں سکتے