علماؔ ئے ہند کی خدمت میں نیاز نامہ اے برادران دین وعلمائے شرع متین!آپ صاحبان میری ان معروضات کو متوجہ ہو کر سُنیں کہ اس عاجزنے جو مثیل موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔یہ کوئی نیا دعویٰ نہیں جو آج ہی میرے مُنہ سے سُنا گیا ہو بلکہ یہ وہی پُرانا الہام ہے جو میں نے خدائے تعالیٰ سے پاکر براھین احمدیہ کے کئی مقامات پر بتصریح درج کر دیا تھا جس کے شائع کرنے پر سات سال سے بھی کچھ زیادہ عرصہ گزر گیا ہوگا میں نے یہ دعویٰ ہرگزنہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں جو شخص یہ الزام میرے پر لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاّب ہے بلکہ میری طرف سے عرصہ سات یا آٹھ سال سے برابر یہی شائع ہو رہا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں یعنی حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعض روحانی خواص طبع اور عادت اور اخلاق وغیرہ کے خدائے تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھے ہیں اور دوسرے کئی امور میںؔ جن کی تصریح انہیں رسالوں میں کر چکا ہوں میر ی زندگی کو مسیح ابن مریم سے اشد مشابہت ہے اور یہ بھی میری طرف سے کوئی نئی بات ظہور میں نہیںآئی کہ میں نے ان رسالوں میں اپنے تئیں وہ موعود ٹھہرایا ہے جس کے آنے کا قرآن شریف میں اجمالًا اور احادیث میں تصریحاً بیان کیا گیاہے کیونکہ میں تو پہلے بھی براہین احمدیہ میں بتصریح لکھ چکا ہوں کہ میں وہی مثیل موعود ہوں جس کے آنے کی خبر روحانی طور پر قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں پہلے سے وارد ہو چکی ہے۔ تعجب کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی اپنے رسالہ اِشَاعۃ السُّنّۃ نمبر ۶ جلد سا ت میں جس میں براہین احمدیہ کا ریویو لکھا ہے اِن تمام الہامات کی اگرچہ ایمانی طور پر نہیں مگر امکانی طور پر تصدیق کر چکے اور بدل و جان مان چکے ہیں مگر پھر بھی سُنا جاتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب موصوف کو بھی اور لوگوں کا شور اور غوغا دیکھ کر