دیکھا مگر قبول نہ کیا ان کی حالت کو میں کس قوم کی حالت سے تشبیہ دوں اُنکی نسبت یہی تمثیل ٹھیک آتی ہے کہ ایک بادشاہ نےؔ اپنے وعدہ کے موافق ایک شہر میں اپنی طرف سے ایک حاکم مقرر کرکے بھیجا تا وہ دیکھے کہ درحقیقت مطیع کون ہے اور نافرمان کون اور تا اُن تمام جھگڑوں کا تصفیہ بھی ہو جائے جو اُن میں واقع ہو رہے ہیں چنانچہ وہ حاکم عین اُس وقت میں جبکہ اس کے آنے کی ضرورت تھی آیا اور اُس نے اپنے آقائے نامدارکا پیغام پہنچادیا اور سب لوگوں کو راہِ راست کی طرف بُلایا اور اپنا حَکَم ہونا اُن پر ظاہر کردیا۔لیکن وہ اس کے ملازم سرکاری ہونے کی نسبت شک میں پڑ گئے تب اُس نے ایسے نشان دکھلائے جو ملازمو ں سے ہی خاص ہوتے ہیں مگر انہوں نے نہ مانا اور اُسے قبول نہ کیا اور اُس کو کراہت کی نظرسے دیکھا اور اپنے تئیں بڑاسمجھااور اس کا حَکم ہونا اپنے لئے قبول نہ کیا بلکہ اس کو پکڑ کر بے عزّت کیا اور اُس کے مُنہ پر تھوکا اور اس کے مارنے کے لئے دوڑے اور بہت سی تحقیر و تذلیل کی اور بہت سی سخت زبانی کے ساتھ اُس کو جھٹلایا تب وہ اُن کے ہاتھ سے وہ تمام آزاراُٹھاکر جو اس کے حق میں مقدّر تھے اپنے بادشاہ کی طرف واپس چلاگیا اور وہ لوگ جنہوں نے اُس کا ایسابُرا حال کیا کسی اور حاکم کے آنے کے منتظر بیٹھے رہے اور جہالت کی راہ سے ایسے خیال باطلؔ پر جمے رہے کہ یہ تو حاکم نہیں تھا بلکہ وہ اور شخص ہے جو آئے گا جس کی انتظاری ہمیں کرنی چاہیئے سو وہ سارا دن اس شخص کی انتظارکئے گئے اور اُٹھ اُٹھ کر دیکھتے رہے کہ کب آتا ہے اور اس وعدہ کا باہم ذکرکرتے رہے جو بادشاہ کی طرف سے تھا یہاں تک کہ انتظار کرتے کرتے سورج غروب ہونے لگااور کوئی نہ آیا آخر شام کے قریب بہت سے پولیس کے سپاہی آئے جن کے ساتھ بہت سی ہتکڑیاں بھی تھیں سوانہوں نے آتے ہی اُن شریروں کے شہر کو پھونک دیااور پھر سب کو پکڑ کر ایک ایک کو ہتکڑی لگا دی اورعدالت شاہی کی طرف بجُرم عدول حکمی اور مقابلہ ملازم سرکاری چالان کردیا جہاں سے انہیں وہ سزائیں مل گئیں جن کے وہ سزاوار تھے۔
سو میں سچ مچ کہتا ہوں کہ یہی حال اس زمانہ کے جفاکار منکروں کا ہوگا ہریک شخص اپنی زبان اور قلم اور ہاتھ کی شامت سے پکڑاجائے گا جس کے کان سُننے کے ہوں سُنے۔