ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ ۱۳۰۰ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نا م نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اِسوقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں اور اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ سبحانہ بعض اسرار اعداد حروف تہجّی میں میرے پرظاہر کردیتا ہے۔ایک دفعہ میں نے آدم کے سن پیدائش کی طرف توجہ کی تو مجھے اشارہ کیا گیا کہ ان اعداد پر نظر ڈالو جو سورۃ العصر کے حروف میں ہیں کہ انہیں میں سے وہ تاریخ نکلتی ہے۔ ایک مرتبہ میں نے اس مسجد کی تاریخ جس کے ساتھ میرا مکان ملحق ہے الہامی طور پر معلوم کرنی چاہی تو مجھے الہام ہوا مبارک و مبارِک وکل امر مبارک یجعل فیہ۔یہ وہی مسجد ہے جس کی نسبت میں اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ میرا مکان اس قصبہ کے شرقی طرف آبادی کے آخری کنارہ پرواقع ہے اسی مسجدکے قریب اور اس کے شرقی منارہ کے نیچے جیساکہ ہمارے سیّد و مولیٰ کی پیشگوئی کا مفہوم ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اور ابھی چند روز کا ذکر ہے کہ ایک شخص کی موت کی نسبت خدائے تعالیٰ نےؔ اعداد تہجی میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ کلب یموت علٰی کلب یعنی وہ کُتّا ہے اور کُتے کے عدد پر مرے گا جو باو۵۲ ن سال پر دلالت کررہے ہیں یعنی اُس کی عمر باو ۵۲ن سال سے تجاوز نہیں کرے گی جب باون سال کے اندر قدم دھرے گا تب اُسی سال کے اندر اندر راہی ملک بقا ہو گا۔ اب پھر میں تقریر بالا کی طرف رجوع کر کے کہتا ہوں کہ ہمار اگروہ ایک سعید گروہ ہے جس نے اپنے وقت پر اس بندہ مامور کو قبول کر لیا ہے جو آسمان اور زمین کے خدا نے بھیجا ہے اور ان کے دلوں نے قبول کرنے میں کچھ تنگی نہیں کی کیونکہ وہ سعید تھے اور خدائے تعالیٰ نے اپنے لئے انہیں چُن لیا تھا۔عنایت حق نے انہیں قوت دی اور دوسروں کو نہیں دی اور اُن کا سینہ کھول دیا اور دوسروں کا نہیں کھولا سو جنہوں نے لے لیا اُنہیں اَور بھی دیا جائے گا اور ان کی بڑھتی ہوگی مگر جنہوں نے نہیں لیا اُن سے وہ بھی لیا جائے گا جو اُن کے پاس پہلے تھا۔بہت سے راستبازوں نے آرزو کی کہ اس زمانہ کو دیکھیں مگر دیکھ نہ سکے مگر افسوس کہ ان لوگوں نے