آنے کا وقت چودہویں صدی کا شروع سال بتلا گئے ہیں چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب مُحدّث دہلوی قدس سرہٗ کی بھی یہی رائے ہے اور مولوی صدیق حسن صاحب مرحوم نے بھی اپنے ایک رسالہ میں ایساہی لکھا ہے اور اکثر محدّثین اس حدیث کے معنے میں کہ جو الاٰیات بعد المأ تین ہے اسی طرف گئے ہیں۔اگر یہ کہو کہ مسیح موعود کا آسمان سے دمشق کے منارہ کے پاس اُترنا تمام مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے تو اس کا جواب َ میں اسی رسالہ میں لکھ چکا ہوں کہ اس بات پر ہرگز اجماع نہیں قرآن شریف میں اس کا کہاں بیان ہے وہاں تو صرف موت کا ذکر ہے بخاری میں حضرت یحیٰیکی روح کے ساتھ حضرت عیسٰی کی روح کو دوسرے آسمان پر بیان کیا ہے اور دمشق میں اُترنے سے اعراض کیاہے اور ابن ماجہ صاحب بیتؔ المقدس میں اُ ن کو نازل کررہے ہیں اور ان سب میں سے کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ یہ تمام الفاظ و اسماء ظاہر پر ہی محمول ہیں بلکہ صرف صورت پیشگوئی پر ایمان لے آئے ہیں پھر اجماع کس بات پر ہے۔ہاں تیرہویں صدی کے اختتام پر مسیح موعود کا آنا ایک اجماعی عقیدہ معلوم ہوتا ہے۔سو اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اُتار کر دکھلادیں۔صالحین کی اولاد ہو مسجد میں بیٹھ کر تضرّع اور زاری کرو تاکہ عیسٰی ابن مریم آسمان سے فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تشریف لاویں اور تم سچے ہو جاؤ۔ ورنہ کیوں ناحق بد ظنی کرتے ہو اور زیر الزام آیت کریمہ لَا تَقْفُ مَا لَـيْسَ لَـكَ بِهٖ عِلْمٌ ۱؂ آتے ہو خدائے تعالیٰ سے ڈرو۔ لطیفہ چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الاٰیات بعد المأتین ہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعدادحروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے ؔ پورے ہونے پر ظاہر ہونے والاتھا پہلے سے یہی تاریخ ۱؂ بنی اسرائیل:۳۷