جناب ختم المرسلین احمد عربی صلعم کے اور کوئی ہمارے لئے ہاد ی اور مقتدا نہیں جس کی پیروی ہم کریں یا دوسروں سے کرانا چاہیں توپھر ایک مُتدیّنمسلمان کے لئے میرے اس دعوے پر ایمان لانا جس کی الہام الٰہی پر بناہے کونسی اندیشہ کی جگہ ہے۔ بفرضِ محال اگر میر ایہ کشف اور الہام غلط ہے اور جو کچھ مجھے حکم ہو رہا ہے اُس کے سمجھنے میں مَیں نے دھوکہ کھایا ہے تو ماننے والے کا اس میں حرج ہی کیا ہے۔کیا اُس نے کوئی ایسی بات مان لی ہے جس کی وجہ سے اُس کے دین میں کوئی رخنہ پیدا ہو سکتا ہے اگر ہماری زندؔ گی میں سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم ہی آسمان سے اُتر آئے تو دلِ ما شا دو چشمِ ماروشن ہم اور ہمارا گروہ سب سے پہلے اُن کو قبول کرلے گا اور اس پہلی بات کے قبول کرنے کا بھی ثواب پائے گا جس کی طرف محض نیک نیتی اورخدائے تعالیٰ کے خوف سے اُس نے قدم اُٹھایا تھا بہرحال اس غلطی کی صورت میں بھی (اگر فرض کی جائے)ہمارے ثواب کا قدم آگے ہی رہا اور ہمیں دو ثواب ملے اور ہمارے مخالف کو صرف ایک لیکن اگر ہم سچے ہیں اور ہمارے مخالف آئندہ کی امیدیں باندھنے میں غلطی پر ہیں تو ہمارے مخالفوں کا ایمان سخت خطرہ کی حالت میں ہے کیونکہ اگر سچ مچ انہوں نے اپنی زندگی میں حضرت مسیح ابن مریم کو بڑے اقبال و جلال کے ساتھ آسمان سے اُترتے دیکھ لیا اور اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیا کہ فرشتوں کے ساتھ اُترتے چلے آتے ہیں تب تو اُن کا ایمان سلامت رہا ورنہ دوسری صورت میں ایمان سلامت رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔کیونکہ اگر اخیر زندگی تک کوئی آدمی آسمان سے اُترتا اُنہیں دکھائی نہ دیا بلکہ اپنی ہی طیاری آسمان کی طرف جانے کے لئے ٹھہر گئی تو ظاہر ہے کہ کیا کیا شکوک و شبہات ساتھؔ لے جائیں گے اور نبی صادق کی پیشگوئی کے بارہ میں کیا کیا وساوس دل میں پڑیں گے اورقریب ہے کہ کوئی ایساسخت وسوسہ پڑجائے کہ جس کے ساتھ ایمان ہی برباد ہو۔ کیونکہ یہ وقت انجیل اور احادیث کے اشارات کے مطابق وہی وقت ہے جس میں مسیح اُترنا چاہیئے اسی وجہ سے سلف صالح میں سے بہت سے صاحبِ مکاشفات مسیح کے