ہوتی دیکھ کر ایمانی قوت میں بہت ترقی کر گئے اور اُن کے سماعی ایمان پر ایک معرفت کا رنگ آگیا اب وہ اُن تمام حیرتوں سے چھوٹ گئے جو اُن پیشگوئیوں کے بارہ میں دلوں میں پیدا ہوا کرتی ہیں جو پورؔ ی ہو نے میں نہیں آتیں۔
چوتھی یہ کہ وہ خدائے تعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندہ پر ایمان لا کر اس سخط اور غضب الٰہی سے بچ گئے جو اُن نافرمانوں پر ہوتاہے کہ جن کے حصہ میں بجُز تکذیب و انکارکے اور کچھ نہیں۔
پانچویں یہ کہ وہ اُن فیوض اور برکات کے مستحق ٹھہر گئے جو اُن مخلص لوگوں پر نازل ہوتے ہیں جو حسن ظن سے اُس شخص کو قبول کر لیتے ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔
یہ تو وہ فوائد ہیں کہ جو انشاء اللہ الکریم اُن سعید لوگوں کو بفضلہ تعالیٰ ملیں گے جنہوں نے اس عاجز کو قبول کر لیا ہے لیکن جو لوگ قبول نہیں کرتے وہ ان تما م سعادتوں سے محروم ہیں اور اُن کا یہ وہم بھی لغو ہے کہ قبول کرنے کی حالت میں نقصان دین کا اندیشہ ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ نقصانِ دین کس وجہ سے ہو سکتا ہے۔نقصان تو اس صورت میں ہوتا کہ اگر یہ عاجز برخلاف تعلیم اسلام کے کسی اَور نئی تعلیم پر چلنے کے لئے انہیں مجبور کرتا۔مثلًا کسی حلال چیز کو حرام یا حرام کوحلا ل بتلاتا یا اُن ایمانی عقائد میں جو نجات کے لئے ضروری ہیں کچھ فرق ڈالتا یا یہ کہ صوم و صلٰوۃ و حجؔ و زکٰوۃ وغیرہ اعمال شرعیہ میں کچھ بڑھاتا یا گھٹا دیتا مثلاً پانچ وقت کی نماز کی جگہ دس وقت کی نماز کر دیتا یا دووقت ہی رہنے دیتا یا ایک مہینہ کی جگہ دو مہینے کے روزے فرض کر دیتا یا اس سے کم کی طرف توجہ دلاتا تو بے شک سراسر نقصان بلکہ کفر و خسران تھا لیکن جس حالت میں یہ عاجز بار بار یہی کہتا ہے کہ اے بھائیو! میں کوئی نیا دین یا نئی تعلیم لے کر نہیں آیا بلکہ میں بھی تم میں سے اورتمہاری طرح ایک مسلمان ہوں اور ہم مسلمانوں کے لئے بجز قرآن شریف اور کوئی دوسری کتاب نہیں جس پر عمل کریں یا عمل کرنے کے لئے دوسروں کو ہدایت دیں اور بجُز