مسیح کا مثیل بن کر آوے کیونکہ نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں بلکہ خدائے تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئیؔ میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذُریّت سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی وہ آسمان سے اُترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کردے گا اور وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور اُن کو جو شبہات کی زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔ فرزند دلبند گرامی و ارجمند مظہر الحق والعلاء کانّ اللّٰہ نزل من السماء لیکن یہ عاجز ایک خاص پیشگوئی کے مطابق جو خدائے تعالیٰ کی مقدس کتابوں میں پائی جاتی ہے مسیح موعود کے نام پر آیا ہے۔ واللّٰہ اعلم و علمہ احکم۔
جائیکہ از مسیح و نزولش سخن رود
گویم سخن اگرچہ ندارند باورم
کاندؔ ر دلم دمید خداوند کردگار
کاں برگزیدہ را ز رہ صدق مظہرم
موعودم و بِحلیۂ ماثور آمدم
حیف است گر بدیدہ نہ بینند منظرم
رنگم چو گندم است و بمو فرق بین ست
زِ انساں کہ آمد است در اخبار سرورم
ایںؔ مقدمم نہ جائے شکوک ست و التباس
سیّدؐ جدا کند ز مسیحائے احمرم
از کلمہۂ َ منارۂ شرقی عجب مدار
چوں خود زِ مشرق است تجلّیِ نیرّم
اِینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابہ نہد پا بہ منبرم