بتلاویں کہ کس نے اس صدی کے سر پر خدائے تعالیٰ سے الہام پاکر مُجدّد ہونے کادعویٰ کیا ہے یوں تو ہمیشہ دین کی تجدید ہورہی ہے مگر حدیث کا تو یہ منشاء ہے کہ وہ مجدد خدائے تعالیٰ کی طرف سے آئے گا یعنی علوم لَدُنّیہ و آیات سماویہ کے ساتھ۔ اب بتلاویں کہ اگر یہ عاجز حق پر نہیں ہے تو پھروہ کون آیا جس نے اس چودہویں صدی کے سر پر مجدّد ہونے کا ایسا دعویٰ کیا جیسا کہ اس عاجز نے کیا کوئی الہامی دعاوی کے ساتھ تمام مخالفوں کے مقابل پر ایسا کھڑا ہوا جیسا کہ یہ عاجز کھڑا ہؤا۔ تفکروا و تندّموا واتّقوااللّٰہ ولا تغلوا اور اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعویٰ میں غلطی پر ہے تو پھر آپ لوگ کچھ کوشش کریں کہ مسیح موعود جو آپ کے خیال میں ہے اِنہیں دنوں میں آسمان سے اُتر آوے کیونکہ میں تو اس وقت موجود ہوں مگر جس کے انتظار میں آپ لوگ ہیں وہ موجود نہیں اور میرے دعویٰ کا ٹوٹنا صرف اسی صورت میں متصوّر ؔ ہے کہ اب وہ آسمان سے اُتر ہی آوے تا میں ملزم ٹھہر سکوں۔ آپ لوگ اگر سچ پر ہیں تو سب مل کر دعا کریں کہ مسیح ابن مریم جلد آسمان سے اُترتے دکھائی دیں اگر آپ حق پر ہیں تو یہ دُعا قبول ہوجائے گی کیونکہ اہل حق کی دُعا مُبطلین کے مقابل پر قبول ہوجایا کرتی ہے لیکن آپ یقیناًسمجھیں کہ یہ دُعا ہرگز قبول نہیں ہوگی کیونکہ آپ غلطی پر ہیں مسیح تو آچُکا لیکن آپ نے اُس کو شناخت نہیں کیا اب یہ امید موہوم آپ کی ہرگز پوری نہیں ہوگی یہ زمانہ گزر جائے گا اور کوئی ان میں سے مسیح کو اُترتے نہیں دیکھے گا۔
حالانکہ تیرھویں صدی کے اکثر علماء چودہویں صدی میں اُس کا ظہور معین کرگئے ہیں اور بعض تو چودھویں صدی والوں کو بطور وصیّت یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ اگر اُن کا زمانہ پاؤ تو ہمارا السلام علیکم اُنہیں کہو۔ شاہ ولی اللہ صاحب رئیس المحدّثین بھی انہیں میں سے ہیں۔
بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی