ہمارے نزدیک صحیح نہیں اور بہتیری حدیثیں موضوع ہیں اور آنحضرت کے قول سے بذریعہ کشف کے صحیح ہوجاتی ہیں۔ تَمَّ کَلَامُہٗ
اور فتوحات مکّیہ میں ابن عربی صاحب نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اہل ذکر و خلوت پر وہ علوم لدُنیہ کھلتے ہیں جو اہل نظر و استدلال کو حاصل نہیں ہوتے اور یہ علوم لدنیہ اور اسرار و معارف انبیاء و اولیاء سے مخصوص ہیں اور جنید بغدادی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے تیس سال اس درجہ میں رہؔ کر یہ رُتبہ حاصل کیا ہے اور ابویزید بُسطامی سے نقل کیا ہے کہ علماء ظاہر نے علم مُردوں سے لیا ہے اور ہم نے زندہ سے جو خدائے تعالیٰ ہے۔ تَمَّ کَلَامُہٗ
ایسا ہی مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب نے رئیس مُحدّثین حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرّہٗ کے کلمات قُدسیہ اس بارہ میں بہت کچھ لکھے ہیں اور دوسرے علماء و فقراء کی بھی شہادتیں دی ہیں مگر ہم اُن سب کو اس رسالہ میں نہیں لکھ سکتے اور نہ لکھنے کی کچھ ضرورت ہے الہام اور کشف کی عزت اور پایۂ عالیہ قرآن شریف سے ثابت ہے وہ شخص جس نے کشتی کو توڑا اور ایک معصوم بچہ کو قتل کیا جس کا ذکر قرآن شریف میں ہے وہ صرف ایک ملہم ہی تھا نبی نہیں تھا۔ الہام اور کشف کا مسئلہ اسلام میں ایسا ضعیف نہیں سمجھا گیا کہ جس کا نورانی شعلہ صرف عوام الناس کے مُنہ کی پھونکوں سے مُنطفی ہوسکے یہی ایک صداقت تو اسلام کے لیے وہ اعلیٰ درجہ کا نشان ہے جو قیامت تک بے نظیر شان و شوکت اسلام کی ظاہر کررہاہے یہی تو وہ خاص برکتیں ہیں جو غیر مذہب والوں میں پائی نہیں جاتیں۔ ہمارے علماء اس الہام کے مخالفؔ بن کر احادیث نبویہ کے مکذب ٹھہرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ ہرایک صدی پر ایک مُجدّد کا آنا ضروری ہے اب ہمارے علماء کہ جو بظاہر اتباع حدیث کا دم بھرتے ہیں انصاف سے