آسمان تک کیوں کر پہنچ گئے اور کیا یہ مخالفوں کے لئے ہنسنے کی جگہ نہیں ہوگی کہ حلیہ اول اور اخیر کے اختلاف کی وجہ یہ بیان کی جائے کہ تغیر عمر کے سبب سے حُلیہ میں فرق آگیا ہو گا۔ ایک اور بات ہمارے علماء کے لئے غور کے لائق ہے کہ احادیث میں صرف ایک دجّال کا ذکر نہیں بلکہ بہت سے دجّال لکھے ہیں اور لِکُلِّ دَجَّالٍ عِیْسٰی کی مثال پر تد بر کی نظر ڈال کر یہ بات بآسانی سمجھ آسکتی ہے کہ عیسیٰ کے لفظ سے مثیل عیسیٰ مراد ہونا چاہیئے اس ہماری بات کو وہ حدیث اور بھی تائید دیتی ہے جو مثیل مصطفےٰ کی نسبت ایک پیشگوئی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں مہدی کے نام سے موسوم کرتے ہیں کیونکہ اس حدیث میں ایسے لفظ ہیں جن سے بصراحت یہ پایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم پیشگوئی میں اپنے ایک مثیل کی خبر دے رہے ہیں کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ مہدی خُلق اور خَلق میں میری مانند ہوگا یُوَاطِئُ اِسْمُہٗ اِسْمِیْ وَاِسْمُ اَبِیْہِ اِسْمَ اَبِیْ یعنی میرے نام جیسا اس کا نام ہوگا اور میرے باپ کے نا مؔ کی طرح اُس کے باپ کا نام۔اب دیکھو کہ خلاصہ اس حدیث کا یہی ہے کہ وہ میرا مثیل ہوگا اس صورت میں ایک دانا کو نہایت آسانی سے یہ بات سمجھ آسکتی ہے کہ جیسے حدیث میں ایک مثیل مصطفےٰ کا ذکر ہے ایسا ہی مثیل مسیح کا ذکر بھی ہے نہ یہ کہ ایک جگہ مثیل مصطفےٰ اور دوسری جگہ خود حضرت مسیح ہی آجائیں گے۔فتدبّر۔ اب ظاہر ہے کہ جس قدر ہم نے اپنے الہامی عقیدہ کی تائید میں دلائل عقلی و نقلی و شرعی لکھے ہیں وہ ہمارے اثبات مدعا کے لیے کافی ہیں اور اگر اس جگہ ہم بطور فرض محال تسلیم بھی کر لیں کہ ہم بکلی شبہات پیش آمدہ کا تصفیہ نہیں کرسکے تو اس میں بھی ہمارا کچھ حرج نہیں کیونکہ الہام الٰہی و کشف صحیح ہمارامؤ یّد ہے اس لئے اسی قدر ہمارے لئے کافی ہے۔ ایک متدیّن عالم کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ الہام اور کشف کا نام سُن کر چُپ ہو جائے اور لمبی چون وچرا سے باز آجائے اگر مخالف الرائے لوگوں کے ہاتھ میں بعض احادیث کی رُو سے کچھ دلائل ہیں تو ہمارے پاس ایسے نقلی و شرعی دلائل ان سے کچھ تھوڑے نہیں۔ قرآن شریف