دعویٰ کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور معنے نہیں ہو سکتے بلکہ وہ تو مسنون طور پر تفاصیل کو حوالہ بخداکرتے رہے ہیں۔
پھر یہ بھی ہم بخوبی ظاہر کر چکے ہیں کہ اس پیشگوئی کو صرف ظاہری الفاظ تک محدود رکھنے میں بڑی بڑ ی مشکلات ہیں قبل اس کے جو مسیح آسمان سے اُترے صدہا اعتراض پہلے ہی سے اُتر رہے ہیں ان مشکلات میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا ہے اور ہمیں اس بات کی کیا حاجت کہ ابن مریم کو آسمان سے اُتاراجائے اور ان کا نبوت سے الگ ہونا تجویزکیاجائے اور ان کی اس طرح پر تحقیر کی جائے کہ دوسراشخص امامت کرے اور وہ پیچھے مقتدی بنیں اور دوسراشخص اُن کے روبرو لوگوں سے بیعت امامت و خلافت لے اور وہ بدیدۂ حسرت دیکھتے رہیں اور احد المسلمین بن کر اپنی نبوت کا دم نہ مار سکیں اورؔ ہم اس قریب الشرک بلکہ سراسر شرک سے بھرے ہوئے کلمے کو کیوں مُنہ سے بولیں کہ دجّال یک چشم خدائے تعالیٰ کی طرح اپنے اقتدار سے مُردوں کو زندہ کرے گا اور صریح صریح خدائی کی علامتیں دکھلادے گا اور کوئی اسے یہ نہیں کہے گا کہ اے یک چشم خدا پہلے تُو اپنی آنکھ درست کر۔ کیا وہ توحید جو اسلام نے ہمیں سکھائی ہے ایسی قدرتیں کسی مخلوق میں روارکھتی ہے کیا اسلام نے اِن واہیات باتوں کو اپنے پَیروں کے نیچے کچل نہیں دیا عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک خر دجّال بھی گویا ایک حصہ خدائی کا رکھتا ہے اور کہتے ہیں کہ اُس خَر کا پیدا کرنے والا دجّال ہی ہے۔ پھر جبکہ وہ دجّال مُحیی و ممیت اور خالق بھی ہے تو اس کے خدا ہونے میں کسر کیا رہ گئی؟ اور اس گدھے کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ وہ مشرق و مغرب میں ایک روز میں سیر کرسکے گا مگر ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ دجّال سے مراد بااقبال قومیں ہوں اور گدھا اُن کا یہی ریل ہو جو مشرق اور مغرب کے ملکوں میں ہزار ہا کوسوں تک چلتے دیکھتے ہو۔ پھر مسیح کے بارہ میں یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ کیا طبعی اورفلسفی لوگ اس خیال پر نہیں ہنسیں گے کہ جبکہ تیس یا چالیس ہزار فٹ تک زمین سے اوپر کی طرف جانا موتؔ کا موجب ہے توحضرت مسیح اس جسم عنصری کے ساتھ