ہمارے ساتھ ہے اُن کے سا تھؔ نہیں۔ صحیح بخاری کی حدیثیں ہماری مؤ یّد ہیں ان کی مؤیّد نہیں۔ علاوہ اس کے معقولی دلائل جو تجارب فلسفہ و طبعیہ سے لئے گئے ہیں وہ سب ہمارے پاس ہیں اُن کے پاس ایک بھی نہیں اور ان تمام امور کے بعد الہام ربّانی و کشف آسمانی ہمارے بیان کا شاہد ہے اور اُن کے پاس اس اصرار پر کوئی ایسا شاہد نہیں۔ اس جگہ ہم اس بات کا لکھنا بے محل نہیں سمجھتے کہ الہام اور کشف کی حجت اور دلیل ہونے کے قائل اگرچہ بعض خشک متکلّمین اور اصولی نہ ہوں لیکن ایسے تمام محدّث اور صوفی جو معرفت کامل اور تفقّہ تام کے رنگ سے رنگین ہوئے ہیں بذوق تمام قائل ہیں اس بارے میں ہمارے دوست مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعت السنہ نمبر۱۱جلد ۷ میں بہ بسط تمام بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ از انجملہ امام عبد الوھاب شعرانی کی کتاب میزان کبریٰ اور فتوحات شیخ محی الدین کا جو مولوی صاحب موصوف نے بتائید اپنی رائے کے ذکر کیا ہے اُن میں سے ہم کسی قدر ناظرین کے لئے لکھتے ہیں۔ امام صاحب اپنی کتاب میزان کے صفحہ ۱۳ میں فرماتے ہیں کہ صاؔ حب کشف مقام یقین میں مجتہدین کے مساوی ہوتا ہے اور کبھی بعض مجتہدین سے بڑھ جاتا ہے کیونکہ وہ اُسی چشمہ سے چلّو بھرتا ہے جس سے شریعت نکلتی ہے۔ اور پھر امام صاحب اس جگہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ صاحب کشف اُن علوم کا محتاج نہیں جو مجتہدوں کے حق میں اُن کی صحت اجتہاد کے لئے شرط ٹھہرائے گئے ہیں اور صاحب کشف کا قول بعض علماء کے نزدیک آیت اور حدیث کے مانند ہے۔ پھر صفحہ ۳۳ میں فرماتے ہیں کہ بعض حدیثیں محدثین کے نزدیک محل کلام ہوتی ہیں مگر اہل کشف کو اُن کی صحت پر مطلع کیا جاتا ہے جیسا کہ اصحابی کالنجوم کی حدیث محدثین کے نزدیک جرح سے خالی نہیں مگر اہل کشف کے نزدیک صحیح ہے۔ پھر صفحہ ۳۴ میں فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی ایسی دلیل نہیں جو کلام اہل کشف کو