کہ شائد اس پیشگوئی کی ایسی تفاصیل مخفی ہوں جو اب تک کھلی نہیں درحقیقت تمام انبیاء کا یہی مذہب رہا ہے کہ وہ پیشگوئی کی اصل حقیقت کو خدائے تعالیٰ کے وسیع علم پر چھوڑتے رہے ہیں اسی وجہ سے وہ مقدس لوگ باوجود بشارتوں کے پانے کے پھر بھی دعاسے دستبردار نہیں ہوتے تھے جیساکہ بدر کی لڑائی میں فتح کا وعدہ دیاگیاتھا مگر ہمارے سیّد و مولیٰ رو رو کر دعائیں کرتے رہے اس خیال سے کہ شاید پیشگوئی میں کوئی ایسے امور مخفی ہوں یا وہ کچھ ایسے شروط کے ساتھ وابستہ ہوں جن کا علم ہم کو نہیں دیاگیا۔
اور یہ دعویٰ کہ تمام صحابہ اور اہل بیت اسی طرح مانتے چلے آئے ہیں جیساکہ ہم۔ یہ بالکل لغو اور بلا دلیل ہے فردفرد کی رائے کا خداہی کو علم ہو گا کسی نے اُن سب کے اظہارات لکھ کر کب قلمبند کئےؔ ہیں یا کب کسی نے اپنے مُنہ سے اُن کے بیانات سُن کر شائع کئے ہیں باوجودیکہ صحابی دس ہزا ۱۰۰۰۰ر سے بھی کچھ زیادہ تھے مگر اس پیشگوئی کے روایت کرنے والے شاید دو یا تین تک نکلیں تو نکلیں اور ان کی روایت بھی عام طور پر ثابت نہیں ہوتی کیونکہ بخاری جو حدیث کے فن میں ایک ناقد بصیرہے اُن تمام روایات کو معتبر نہیں سمجھتایہ خیال ہرگزنہیں ہو سکتاکہ بخاری جیسے جدوجہد کرنے والے کو وہ تمام روایات رطب و یابس پہنچی ہی نہیں بلکہ صحیح اور قرین قیاس یہی ہے کہ بخاری نے اُن کو معتبر نہیں سمجھا اُس نے دیکھاکہ دوسری حدیثیں اپنی ظاہری صورت میں امامکم منکم کی حدیث سے معارض ہیں اور یہ حدیث غایت درجہ کی صحت پر پہنچ گئی ہے اِس لئے اُس نے اِن مخالف المفہوم حدیثوں کو ساقط الا عتبار سمجھ کر اپنی صحیح کو اُن سے پُر نہیں کیا۔
اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ ہرگز خیر القرون کا اس امر پر اجماع ثابت نہیں ہو سکتا کہ ضرور حضرت مسیح دمشق میں ہی نازل ہوں گے کیونکہ بخاری امام فن نے اس حدیث کو نہیں لیا ابن ماجہ اس حدیث کا مخالفؔ ہے اوربجائے دمشق کے بیت المقدس لکھتا ہے اسی طرح کسی کے مُنہ سے کچھ نکل رہا ہے اور کسی کے مُنہ سے کچھ پس اجماع کہاں ہے ؟
اگر فرض کے طور پر اجماع بھی ہوتا تو پھر بھی کیا حرج تھا کیونکہ ان بزرگوں نے کب