کہ بطور اجمالی پیشگوئی پر ایمان لے آویں اور اس کی تفصیل یااس بات کو کہ وہ کس طور سے ظہور پذیر ہو گی حوالہ بخداکریں اور میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اقرب بامن جس سے ایمان سلامت رہ سکتاہے یہی مذہب ہے کہ محض الفاظ پیشگوئی پر زور نہ ڈالا جائے اور تحکم کی راہ سے یہی دعوےٰ نہ کیا جائے کہ ضرور اس کا ظہور ظاہری صورت پر ہی ہو گا کیونکہ اگر خدانخواستہ انجام کار ایسانہ ہوا تو پھر پیشگوئی کی صداقت میں طرح طرح کے شکوک پیداہو کر ایمان ہاتھ سے گیا ایسی کوئی وصیت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی کہ تم نے پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرتے رہنا کسی استعار ہ یا تاویل وغیرہ کو ہرگز قبول نہ کرنا۔اب سمجھنا چاہیئے کہ جب کہ پیشگوئیوں کے سمجھنے کے بارہ میں خود انبیاء سے امکان غلطی ہے تو پھر اُمت کا کوراؔ نہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے۔
ماسوااس کے ہم کئی دفعہ بیان کرآئے ہیں کہ اس پیشگوئی پر اجماع اُمت بھی نہیں۔قرآن شریف قطعی طور پر اپنی آیات بیّنات میں مسیح کے فوت ہو جانے کاقائل اور ہمیشہ کے لئے اُس کو رخصت کرتاہے۔بخاری صاحب اپنی صحیح میں صرف امامکم منکم کہہ کر چُپ ہو گئے ہیں یعنی صحیح بخاری میں صرف یہی مسیح کی تعریف لکھی ہے کہ وہ ایک شخص تم میں سے ہو گا اور تمہار اامام ہو گا۔ہاں دمشق میں عندالمنارہ اُترنے کی حدیث مسلم میں موجود ہے مگر اس سے اجماع اُمت ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ یہ بھی ثابت ہونا مشکل ہے کہ مسلم کا درحقیقت یہی مذہب تھا کہ دمشق کے لفظ سے سچ مچ یہی دمشق مراد ہے اور اگر ایسا فرض بھی کرلیں تو فقط ایک شخص کی رائے ثابت ہوئی مگر پیشگوئیوں کے بار ہ میں جبکہ خدائے تعالیٰ کے پاک نبیوں کی رائے اجتہادی غلطی سے معصوم نہیں رہ سکتی تو پھر مسلم صاحب کی رائے کیوں کر معصوم ٹھہرے گی۔
میں پھر دوبارہ کہتاہوں کہ اس بارہ میں عام خیال مسلمانوں کا گوؔ اُن میں اولیاء بھی داخل ہوں اجماع کے نام سے معصوم۱ نہیں ہو سکتا مسلمانوں نے صورت پیشگوئیوں کو مان لیا ہے اُن کی طرف سے یہ ہرگز دعویٰ نہیں اور نہ ہونا چاہیئے کہ خدائے تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں