اور علماء وقت اُن کو قبول کرتے رہے ہیں لیکن اس زمانہ کے اکثر علماء کی یہ عجیب عادت ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ کا الہام ولایت جس کا کبھی سلسلہ منقطع نہیں اپنے وقت پر بعض مجمل مکاشفات نبویہ اور استعارات سر بستہ قرآنیہ کی کوئی تفسیر کرے تو بنظر انکار و استہزاء اُس کو دیکھتے ہیں حالانکہ صحاح میں ہمیشہ یہ حدیث پڑھتے ہیں کہ قرآن شریف کے لئے ظہر و بطن دونوں ہیں اور اس کے عجائبات قیامت تک ختم نہیں ہو سکتے اور ہمیشہ اپنے مُنہ سے اقرار کرتے ہیں کہ اکثر اکابر محدثین کشوف و الہامات اولیاء کو حدیث صحیح کے قائم مقام سمجھتے رہے ہیں۔
ہم نے جو رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام میں اس اپنے کشفی و الہامی امر کو شائع کیا ہے کہ مسیح موعود سے مراد یہی عاجز ہے میں نے سُنا ؔ ہے کہ بعض ہمارے علماء اس پر بہت افروختہ ہوئے ہیں اور انہوں نے اس بیان کو ایسی بدعات میں سے سمجھ لیاہے کہ جو خارج اجماع اور برخلاف عقیدہ متفق علیہا کے ہوتی ہیں حالانکہ ایساکرنے میں اُن کی بڑی غلطی ہے۔
اول تو یہ جاننا چاہیئے کہ مسیح کے نزول کا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جو ہماری ایمانیات کی کوئی جُز یا ہمارے دین کے رُکنوں میں سے کوئی رُکن ہو بلکہ صد ہا پیشگوئیوں میں سے یہ ایک پیشگوئی ہے جس کو حقیقت اسلام سے کچھ بھی تعلق نہیں۔جس زمانہ تک یہ پیشگوئی بیان نہیں کی گئی تھی اُس زمانہ تک اسلام کچھ ناقص نہیں تھا اور جب بیان کی گئی تو اس سے اسلام کچھ کامل نہیں ہو گیا اور پیشگوئیوں کے بارہ میں یہ ضروری نہیں کہ وہ ضرور اپنی ظاہری صورت میں پوری ہوں بلکہ اکثر پیشگوئیوں میں ایسے ایسے اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں کہ قبل از ظہور پیشگوئی خود انبیاء کو ہی جن پر وہ وحی نازل ہو سمجھ میں نہیں آسکتے چہ جائیکہ دوسرے لوگ ان کو یقینی طور پر سمجھ لیویں دیکھو جس حالت میں ہمارے سید و مولیٰ آپ اس بات کا اقرار کرتے ہوں کہؔ بعض پیشگوئیوں کو میں نے کسی اور صورت پر سمجھااور ظہور اُن کا کسی اور صورت پر ہوا تو پھر دوسرے لوگ گو فرض کے طور پر ساری اُمت ہی کیوں نہ ہو کب ایسادعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہماری سمجھ میں غلطی نہیں سلف صالح ہمیشہ اس طریق کو پسند کرتے رہے ہیں