زندہ رہیں گے۔جوؔ زمین سے اُس کے حالات استفسار کریں گے کیا ممکن ہے کہ زمین تو ساری زیر و زبر ہو جائے یہاں تک کہ اُوپر کا طبقہ اندر اور اندر کا طبقہ باہر آجاؔ ئے اور پھر لوگ زند ہ بچ رہیں بلکہ اس جگہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں اور یہ عام محاورہ قرآن شریف کا ہے کہ زمین کے لفظ سے انساؔ نوں کے دل اور ان کے باطنی قویٰ مراد ہوتے ہیں جیساکہ اللہ جل شَانُہٗ ایک جگہ فرماتاہے
اور جیساکہ فرماتاہے اِعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ يُحْىِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَاؕ ۱۔
وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖۚ وَالَّذِىْ خَبُثَ
بقیہ حاشیہ۔ مَیں اُن کے دلوں کو دیکھتا ہوں کہ زنا سے لے کر خون ناحق تک اگر موقعہ پاویں اُن کے نزدیک نہ صرف جائزبلکہ یہ سب کام تعریف کے لائق ہیں۔ میں اُن کے نزدیک شاید تمام دنیا سے بدترہوں مگر مجھے افسوس نہیں میرے روحانی بھائی مسیح کا قول مجھے یادآتا ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگریہ لوگ امام حسینؓ کاوقت پاتے تو میرے خیال میں ہے کہ یزید اور شمر سے پہلے ان کاقدم ہوتا اورؔ اگرمسیح کے زمانہ کو دیکھتے تو اپنی مکاریوں میں یہودا اسکریوطی کوپیچھے ڈال دیتے۔ خدائے تعالیٰ نے جو اِن کو یزیدیوں سے مناسبت دی تو بے وجہ نہیں دی اُس نے ان کے دلوں کو دیکھا کہ سیدھے نہیں اُن کے چلن پر نظرڈالی کہ درست نہیں تب اس نے مجھے کہا کہ یہ لوگ یزیدی الطبع ہیں اور یہ قصبہ دمشق سے مشابہ ہے۔ سوخدائے تعالیٰ نے ایک بڑے کام کے لئے اس دمشق میں اس عاجز کو اُتارا بطرفٍ شرقیٍ عند المنارۃ البیضاء من المسجد الذی من دخلہ‘ کان آمِنًا فتبارک الذی انزلنی فی ھذا المقام والسلام علٰی رسُولہ افضل الرّسل وخیر الانام۔ منہ