لَا يَخْرُجُ اِلَّا نَكِدً۱ ؂۱ ایساہی قرآن شریف میں بیسیوں نظیریں موجود ہیں جو پڑھنے ؔ والوں پر پوشیدہ نہیں ماسوا اس کے روحانی واعظوں کا ظاہر ہونا اور ان کے ساتھ فرشتوں کا آنا ایک روحانی قیامت کا نمونہ ہوتا ہے جس سے مردوں میں حرکت پیداہو جاتی ہے اور جو قبروں کے اندر ہیں وہ باہر آجاتے ہیں اور نیک اور بد لوگ اپنی سزاجزاپالیتے ہیں سو اگر سورۃ الزلزال کو قیامت کے آثار میں سے قرار دیا جائے تو اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ ایسا وقت روحانی طور پر ایک قسم کی قیامت ہی ہوتی ہے خدائے تعالیٰ کے تائید یافتہ بندے قیامت کا ہی رُوپ بن کر آتے ہیں اور انہیں کا وجود قیامت کے نام سے موسوم ہو سکتاہے جن کے آنے سے روحانی مردے زندہ ہو نے شروع ہو جاتے ہیں اور نیز اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ جب ایسازمانہ آجائے گا کہ تمام انسانی طاقتیں اپنے کمالات کو ظاہر کر دکھائیں گی اور جس حد تک بشری عقول اور افکار کاپرواز ممکن ہے اُس حد تک وہ پہنچ جائیں گی اور جن مخفی حقیقتوں کو ابتدا سے ظاہر کرنا مقدّر ہے وہ سب ظاہر ہو جائیں گی تب اس عالم کا دائرہ پوراہو کر یک دفعہ اس کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ کُلُّ شَیْ ءٍ فَانٍ ہمارؔ امذہب زعشاق فرقان و پیغمبریم بدیں آمدیم و بدیں بگذریم ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لاالٰہ الّا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہمارااعتقادجو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالیٰ اس عالم گذران سے کوچ کریں گے یہ ہے کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ۱؂ الاعراف:۵۹