زمین کو آخری دنوں میں سخت زلزلہ آئے گا اور وہ زلزلہ ایسا ہوگاکہ تمام زمین اُس سے زیرو زبر ہو جائے گی اور جو زمین کے اندر چیزیں ہیں وہ سب باہر آجائیں گی اور اؔ نسان یعنی کافر لوگ زمین کو پوچھیں گے کہ تجھے کیا ہوا تب اُس روز زمین باتیں کرے گی اور اپنا حال بتائے گی۔یہ سراسر غلط تفسیر ہے کہؔ جو قرآن شریف کے سیاق و سباق سے مخالف ہے۔اگر قرآن شریف کے اس مقام پر بنظر غور تدبّر کرو تو صاف ظاہر ہوتاہے کہ یہ دونوؔ ں سورتیں یعنی سورۃ البیّنہ اور سورۃ الزلزال،سورۃ لیلۃ القدرکے متعلق ہیں اور آخری زمانہ تک اس کا کل حال بتلا رہی ہیں ماسوا ؔ اس کے کہ ہریک عقل سلیم سوچ سکتی ہے کہ ایسے بڑے زلزلہ کے وقت میں کہ جب ساری زمین تہ و بالا ہو جائے گی ایسے کافر کہاں بقیہ حاشیہ۔گورنمنٹ برطانیہ کے وہ سچے شکر گذار اور خیر خواہ تھے ۱۸۵۷ء کے غدر کے ایا م میں پچاس گھوڑے انہوں نے اپنے پاس سے خرید کر اور اچھے اچھے جوان مہیا کر کے پچاس سوار بطور مدد کے سرکار کودئے اس وجہ سے وہ اس گورنمنٹ میں بہت ہر دل عزیز تھے اور گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام دلجوئی کے ساتھ اُن کو ملتے تھے بلکہ بسا اوقات صاحبان ڈپٹی کمشنر وکمشنر مکان پر آکر اُن کی ملاقات کرتے تھے۔ اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ خاندان ایک معزز خاندان زمینداری ہے جو شاہان سلف کے زمانہ سے آج تک آثارعزت کسی قدر موجود رکھتا ہے فالحمد للّٰہ الّذی اثبت ھذہ العلامۃ اثباتًا بیّنًا واضحًا من عندہٖ۔ اور چوتھی اورپانچویں علامت کی تصریح کچھ ضروری نہیں خود ظاہرہے اور قادیان کو جو خدائے تعالیٰ نے دمشق کے ساتھ مشابہت دی اور یہ بھی اؔ پنے الہام میں فرمایا کہ اخرج منہ الیزیدیون یہ تشبیہ بوجہ ان مُلحدوں اور شریروں کے ہے جو اس قصبہ میں رہتے ہیں کیونکہ ا س قصبہ میں اکثر ایسے لوگ بھرے ہوئے ہیں جن کو موت یاد نہیں۔ دن رات دنیا کے فریبوں اور مکروں میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر انتظام گورنمنٹ انگریزی مانع نہ ہو تو ان لوگوں کے دل ہریک جرم کے کرنے کو طیارہیں الّا ماشاء اللہ ان میں سے ایسے بھی ہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کے وجود سے بکلّی منکر ہیں اور کسی چیز کو حرام نہیں سمجھتے