اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے اُترنے کے لئے جو زمانہ انجیل میں بیان فرمایا ہے یعنی یہ کہ وہ حضرت نوح کے زماؔ نہ کی طرح امن اور آرام کا زمانہ ہو گا در حقیقت اسی مضمون پر سورۃ الزلزال جس کی تفسیر ابھی کی گئی ہے دلالت التزامی کے طور پر شہادت دے رہی ہے کیونکہ علوم و فنون کے پھیلنے اور انسانی عقول کی ترقیات کا زمانہ درحقیقت ایسا ہی چاہیئے جس میں غایت درجہؔ کا امن وآرام ہو کیونکہ لڑائیوں اور فسادوں اور خوف جان اور خلاف امن زمانہ میں ہر گز ممکن نہیں کہ لوگ عقلی و عملی امور میں ترقیات کر سکیں یہ باتیں تو کامل طور پر تبھی سوجھتی ہیں کہ جب کامل طور پر امن حاصل ہو۔
ہمارؔ ے علماء نے جو ظاہری طور پر اس سور ۃ الزلزال کی یہ تفسیر کی ہے کہ درحقیقت
بقیہ حاشیہ۔ ہم لوگ ایسے ذلیل وخوار تھے کہ ایک گائے کا بچہ جو دو یا ڈیڑھ روپے کو آسکتا ہے صدہا درجہ زیادہ ہماری نسبت بنظر عزت دیکھاجاتا تھا اور اس جانور کو ایک ادنیٰ خراش پہنچانے کی وجہ سے انسان کا خون کرنا مباح سمجھاگیاتھا صدہا آدمی ناکرد ہ گناہ صرف اس شک سےؔ قتل کئے جاتے تھے کہ انہوں نے اس جانور کے ذبح کرنے کا ارادہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی جاہل ریاست کہ جو حیوان کے قتل کے عوض انسان کو قتل کر ڈالنا اپنا فرض سمجھتی تھی اس لائق نہیں تھی کہ خدائے تعالیٰ بہت عرصہ تک اس کو مہلت دیتا اس لئے خدا ئے تعالیٰ نے اس تنبیہ کی صورت کو مسلمانوں کے سر پر سے بہت جلد اُٹھا لیا اور ابر رحمت کی طرح ہمارے لئے انگریزی سلطنت کو دُور سے لایااور وہ تلخی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اُٹھائی تھی گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آکر ہم سب بھول گئے۔ اور ہم پر اور ہماری ذرّیّت پر یہ فرض ہو گیا کہ اس مبارک گورنمنٹ برطانیہ کے ہمیشہ شکر گذار رہیں۔ انگریزی سلطنت میں تین گاؤں تعلقداری اور ملکیت قادیان کا حصہ جدّی والد صاحب مرحوم کو ملے جو اَب تک ہیں اور حرّ اث کے لفظ کے مصداق کے لئے کافی ہیں۔ والد صاحب مرحوم اس ملک کے ممیّز زمیندؔ اروں میں شمارکئے گئے تھے گورنری دربارمیں اُن کو کُرسی ملتی تھی۔ اور