انسان کے نوع میں پوشیدہ طورپر ودیعت رکھا گیا تھاوہ سب خارج میں جلوہ ؔ گر ہو جائے گا تب خدائے تعالیٰ کے فرشتے ان تمام راستبازوں کو جو زمین کی چاروں طرفوں میں پوشیدہ طور پر زندگی بسر کر تے تھے ایک گروہ کی طرح اکٹھا کردیں گے اور دنیا پرستوں کا بھی کھلا کھلا ایک گروہ نظر آئے گا تا ہرایک گروہ اپنی کوششوں کےؔ ثمرات کو دیکھ لیویں تب آخر ہو جائے گی یہ آخری لیلۃ القدر کا نشان ہے جس کی بنا ابھی سے ڈالی گئی ہے جس کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے خدائے تعالیٰ نے اس عاجزکو بھیجا ہے اور مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ انت اشد مناسبۃؔ بعیسی ابن مریم واشبہ الناس بہِ خُلْقًا و خَلْقًا و زمانًامگر یہ تاثیرات اس لیلۃ القدر کی اب بعد اس کے کم نہیں ہوں گی بلکہ باؔ لاتصال کام کرتی رہیں گی جب تک وہ سب کچھ پورا نہ ہو لے جو خدائے تعالیٰ آسمان پر مقرر کر چکاہے۔
بقیہ حاشیہ۔ مرزاگل محمد صاحب مرحوم کے عہد ریاست کے بعد مرزا عطا محمد صاحب کے عہد ریاست میں جو اس عاجز کے دادا صاحب تھے یکدفعہ ایک سخت انقلاب آگیااور ان سکھوں کی بے ایمانی او ر بد ذاتی اور عہد شکنی کی وجہ سے جنہوں نے مخالفت کے بعد محض نفاق کے طور پر مصالحہ اختیار کر لیا تھا انواعِ اقسام کی مصیبتیں اُن پر نازل ہوئیں اور بجُز قادیان اور چند دیہات کے تمام دیہات اُن کے قبضہ سے نکل گئے۔ بالآخر سکھوں نے قادیان پر بھی قبضہ کر لیا اوردادا صاحب مرحوم معہ اپنے تمام لواحقین کے جلا وطن کئے گئے اُ س روز سکھوں نے پانچسو کے قریب قرآن شریف آگ سے جلا دیا اور بہت سی کتابیں چاک کر دیں اور مساجد میں سے بعض مسماؔ ر کیں بعض میں اپنے گھر بنائے اور بعض کو دھرم سالہ بنا کر قائم رکھاجو اب تک موجود ہیں اس فتنہ کے وقت میں جس قدر فقراء وعلماء وشرفا ونجباء قادیان میں موجود تھے سب نکل گئے او رمختلف بلاد وامصار میں جا کر آباد ہو گئے اور یہ جگہ اُن شریروں اور یزیدی الطبع لوگوں سے پُر ہوگئی جن کے خیالات میں بجز بدی اور بدکاری کے اورکچھ نہیں تھا پھر انگریزی سلطنت کے عہد سے کچھ عرصہ پہلے یعنی ان دنوں میں جبکہ رنجیت سنگھ کا عام تسلّط پنجاب پر ہو گیا تھا اس عاجز کے والد صاحب یعنی میرزا غلام مرتضیٰ صاحب مرحوم دوبارہ اس قصبہ میں آ کر آباد ہو ئے اور پھر بھی سکھو ں کی جو روجفا کی نیش زنی ہوتی رہی اُن دنوں میں