میری طرف سے نہیں بلکہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک وحی ہے جو ہریک استعداد پر بحسب اُس کی حالت کے اُتر رہی ہے یعنیؔ صاف نظر آئے گا کہ جو کچھ انسانوں کے دل و دماغ کا م کررہے ہیں یہ ان کی طرف سے نہیں بلکہ ایک غیبی تحریک ہے کہ اُن سے یہ کام کرا رہی ہے سو اُس دن ہریک قسم کی قوتیں جوش میں دکھائی دیں گی دنیا پرستوں کی قوتیں فرشتوں کی تحریک سے جوش میں آکر اگرچہ بباعثؔ نقصان استعداد کے سچائی کی طرف رُخ نہیں کریں گی لیکن ایک قسم کا اُبال ان میں پیدا ہوکر اور انجماد اور افسردگی دور ہو کر اپنی معاشرت کے طریقوں میں عجیب قسم کی تدبیریں اور صنعتیں اور کَلیں ایجاد کرلیں گے اور نیکوں کی قوتوں میں خارق عادت طور پر الہامات اور مکاشفاؔ ت کا چشمہ صاف صاف طور پر بہتا نظر آئے گااور یہ بات شاذونادر ہو گی کہ مومن کی خواب جھوٹی نکلے تب انسانی قویٰ کے ظہور و برو ز کا دائرہ پورا ہو جائے گا اور جو کچھ
بقیہ حاشیہ۔ یہ بات شاذو نادر ہوتی ہے کہ کوئی مذہبی مخالف اپنے دشمن کی کرامات کا قائل ہو لیکن اس راقم نے مرزا صاحب مرحوم کے بعض خوارق عادت اُن سکھوں کے مُنہ سے سنے ہیں جن کے باپ دادا مخاؔ لف گروہ میں شامل ہو کر لڑتے تھے۔ اکثر آدمیوں کا بیان ہے کہ بسا اوقات مرزا صاحب مرحوم صرف اکیلے ہزار ہزار آدمی کے مقابل پر میدا ن جنگ میں نکل کر اُن پر فتح پا لیتے تھے اور کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ اُن کے نزدیک آسکے اور ہر چند جان توڑکر دشمن کا لشکر کوشش کرتا تھا کہ توپوں یا بندوقوں کی گولیوں سے اُن کو مار دیں مگر کوئی گولی یا گولہ اُن پر کارگر نہیں ہوتا تھا۔ یہ کرامت اُن کی صدہا موافقین اور مخالفین بلکہ سکھوں کے مُنہ سے سُنی گئی ہے جنہوں نے اپنے لڑنے والے باپ دادوں سے سندًا بیان کی تھی۔ لیکن میرے نزدیک یہ کچھ تعجب کی بات نہیں اکثرلوگ ایک زمانہ دراز تک جنگی فوجوں میں نوکر رہ کر بہت سا حصہ اپنی عمر کا لڑائیوں میں بسر کرتے ہیں اور قدرت حق سے کبھی ایک خفیف سا زخم بھی تلوار یا بندوق کا اُن کے بدن کو نہیں پہنچتا۔ سو یہ کرامت اگر معقول طور پر بیان کی جائے کہ خدائے تعالیٰ اپنے خاص فضل سے دشمنوں کے حملوں سے انہیں بچاتا رہا تو کچھ حرج کی بات نہیں اس میں کچھ شکؔ نہیں ہو سکتا کہ مرز ا صاحب مرحوم دن کے وقت ایک پُرہیبت بہادر اور رات کے وقت ایک باکمال عا بد تھے اور معمور الاوقات اور متشرع تھے۔اُس زمانہ میں قادیان میں وہ نور اسلام چمک رہا تھا کہ ارد گرد کے مسلمان اس قصبہ کو مکّہ کہتے تھے۔ لیکن