تیزیاں اور بشری عقل کی ہر قسم کی باریک بینیاں نمودارہوجائیں گی اور تمام دفائن و خزائن علوم مخفیہ و فنون مستورہ کے جو چھپے ہوئے چلے آتے تھے اُن سب پر انسان فتحیاب ہو جائے گا اور اپنی فکری اور عقلی تدبیروں کو ہریک باب میں انتہا تک پہنچا دے گا اور انسان کی تمام قوتیں جو نشاءِ انسانی میں مخمّر ہیں صدہا طرح کی تحریکو ںؔ کی وجہ سے حرکت میں آجائیں گی اور فرشتے جو اس لیلۃ القدرمیں مردِ مصلح کے ساتھ آسمان سے اُترے ہوں گے ہریک شخص پر اس کی استعداد کے موافق خارق عادت اثر ڈالیں گے یعنی نیک لوگ اپنے نیک خیال میں ترقی کریں گے اور جن کی نگاہیں دنیا تک محدود ہیں وہ اُن فرشتوں کی تحریک سے دنیوی عقلوں اور معاشرت کی تدبیروں میں وہ یدِ بیضا دکھلائیں گے کہ ایک مرد عارف متحیّر ہو کر اپنے دل میں کہے گا کہ یہ عقلیؔ اور فکری طاقتیں ان لوگوں کو کہاں سے ملیں ؟ تب اُس روز ہریک استعداد انسانی بزبان حال باتیں کرے گی کہ یہ اعلیٰ درجہ کی طاقتیں بقیہ حاشیہ۔ ایک گوشہ میں موجود ہے تو میں کوشش کرتا کہ تا وہی دہلی میں تختؔ نشین ہو جاتا اور خاندان مغلیہ تباہ ہونے سے بچ جاتا۔ غرض مرزا صاحب مرحوم ایک مرد اولی العزم اور متقی اور غایت درجہ کے بیدار مغز اور اول درجہ کے بہادر تھے اگر اُس وقت مشیت الٰہی مسلمانوں کے مخالف نہ ہوتی تو بہت امید تھی کہ ایسا بہادر اور اولی العز م آدمی سکھوں کی بلند شورش سے پنجاب کا دامن پاک کر کے ایک وسیع سلطنت اسلام کی اس ملک میں قائم کر دیتا۔ جس حالت میں رنجیت سنگھ نے باوجود اپنی تھوڑی سی پدری ملکیت کے جو صرف نو گاؤں تھے تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر پیر پھیلا لئے تھے جو پشاور سے لدھیانہ تک خالصہ ہی خالصہ نظر آتا تھا اور ہر جگہ ٹڈیوں کی طرح سکھوں کی ہی فوجیں دکھائی دیتی تھیں تو کیا ایسے شخص کے لئے یہ فتوحات قیاس سے بعید تھیں؟ جس کی گمشدہ ملکیت میں سے ابھی چوراسی یا پچاسی گاؤںؔ باقی تھے اور ہزا ر کے قریب فوج کی جمعیت بھی تھی اور اپنی ذاتی شجاعت میں ایسے مشہور تھے کہ اُس وقت کی شہادتوں سے بہ بداہت ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک میں اُن کا کوئی نظیرنہ تھا لیکن چونکہ خدائے تعالیٰ نے یہی چاہا تھا کہ مسلمانوں پر ان کی بے شمار غفلتوں کی وجہ سے تنبیہ نازل ہو اس لئے مرزا صاحب مرحوم اس ملک کے مسلمانوں کی ہمدردی میں کامیاب نہ ہو سکے اور میرزا صاحب مرحوم کے حالات عجیبہ میں سے ایک یہ ہے کہ مخالفین مذہب بھی ان کی نسبت ولایت کا گمان رکھتے تھے اور ان کی بعض خارق عادت امور عام طور پر دلوں میں نقش ہو گئے تھے