وَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ۱؂۔ یعنی اُن دنوں کا جب آخری زمانہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے کوئی عظیم الشان مصلح آئے گا اور فرشتے نازل ہوں گے یہ نشان ہے کہ زمین جہاں تک اُس کاہلانا ممکن ہے ہلائی جائے گی یعنی طبیعتوں اور دلوں اور دماغوں کو غایت درجہ پر جنبش دی جائے گی اور خیالات عقلی اور فکری اور سبعی اور بہیمی پورؔ ے پورے جوش کے ساتھ حرکت میں آجائیں گے اور زمین اپنے تمام بوجھوں کو باہر نکا ل دے گی یعنی انسانوں کے دل اپنی تمام استعدادات مخفیہ کو بمنصہ ظہور لائیں گے اور جو کچھ اُن کے اندر علوم وفنون کا ذخیر ہ ہے یا جو کچھ عمدہ عمدہ دلی و دماغی طاقتیں و لیاقتیں اُن میں مخفی ہیں سب کی سب ظاہر ہو جائیں گی اور انسانی قوتوں کا آخری نچوڑ نکل آئے گا اور جو جو ملکات انسان کے اندر ہیں یا جو جو جذبات اس کی فطرت میں مودع ہیںؔ وہ تمام مکمن قوت سے حیّزِ فعل میں آجائیں گے اور انسانی حواس کی ہریک نوع کی بقیہ حاشیہ۔ کے ساتھ فرماں روا ہو گئے اور اپنی مستقل ریاست کا پورؔ اپورا انتظام کرلیا اور دشمنوں کے حملے روکنے کے لئے کافی فوج اپنے پاس رکھ لی اور تمام زندگی ان کی ایسی حالت میں گذری کہ کسی دوسرے بادشاہ کے ماتحت نہیں تھے اور نہ کسی کے خراج گزار بلکہ اپنی ریاست میں خود مختار حاکم تھے اور قریب ایک ہزار سوار وپیادہ ان کی فوج تھی اور تین توپیں بھی تھیں اور تین چار سو آدمی عمدہ عمدہ عقلمندوں اورعلماء میں سے ان کے مصاحب تھے اورپانچسو کے قریب قرآن شریف کے حافظ وظیفہ خوار تھے جو اس جگہ قادیان میں رہا کرتے تھے اور تمام مسلمانوں کو سخت تقید سے صوم وصلٰوۃ کی پابندی اور دین اسلام کے احکام پر چلنے کی تاکید تھی اور منکرات شرعی کو اپنی حدودمیں رائج ہونے نہیں دیتے تھے اور اگرکوئی مسلمان ہوؔ کر خلاف شعار اسلا م کوئی لباس یا وضع رکھتا تھاتو وہ سخت مورد عتاب ہوتا تھا اور سقیم الحال اورغربااور مساکین کی خبر گیری اور پرورش کے لئے ایک خاص سرمایہ نقد اور جنس کاجمع رہتا تھاجو وقتًا فوقتًا ان کو تقسیم ہوتاتھا۔ یہ اُن تحریرات کا خلاصہ ہے جو اس وقت کی لکھی ہوئی ہم کو ملی ہیں جن کی زبانی طور پر بھی شہادتیں بطریق مسلسل اب تک پائی جاتی ہیں۔ یہ بھی لکھاہے کہ ان دنوں میں ایک وزیر سلطنت مغلیہ کا غیاث الدولہ نام قادیان میں آیا اور میرزا گل محمدصاحب مرحوم کے استقلال وحسن تدبیر وتقویٰ وطہارت وشجاعت واستقامت کو دیکھ کرچشم پُر آب ہوگیا اور کہا کہ اگر مجھے پہلے سے خبر ہوتی کہ خاندان مغلیہ میں سے ایک ایسا مرد پنجاب کے