سبیل نہ تھی بجُز اس سبیل کے کہ خدائے تعالیٰ نے آپ پیداکردی کہ وہ زبردست رسول بھیجا جس کے ساتھ زبردست تحریک دینے والے ملائک نازل کئے تھے اور زبردست کلام بھیجا گیا تھا پھر بعد اس کے آنے والے زمانہ کے لئے خدائے تعالیٰ سورۃ الزلزال میں بشارت دیتا ہے اور اِذَازُلْزِلَتْ کے لفظ سے اِس بات کی طرفؔ اشارہ کرتاہے کہ جب تم یہ نشانیاں دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ لیلۃ القدر اپنے تمام تر زور کے ساتھ پھر ظاہر ہوئی ہے اور کوئی ربّانی مصلح خدائے تعالیٰ کی طرف سے مع ہدایت پھیلانے والے فرشتوں کے نازل ہو گیاہے جیساکہ فرماتاہے اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ‏ وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ‏ وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَا‌ۚ‏ يَوْمَٮِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَاؕ‏ يَوْمَٮِٕذٍ يَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ۙ لِّيُرَوْا اَعْمَالَهُمْ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ‏ بقیہ حاشیہ۔ جن میں قریب ایک ہزار کے سوا ر و پیادہ فوج رہتی تھی اوراس جگہ کا نام جو اسلام پور قاضی ماجھی تھا تو اس کی یہ وجہ تھی کہ ابتدا میں شاہان دہلی کی طرف سے اس تمام علاقہ کی حکومت ہمارے بزرگوں کو دی گئی تھی اور منصب قضا یعنی رعایا کے مقدمات کا تصفیہ کرنا ان کے سپرد تھا اور یہ طرز حکومت اس وقت تک قائم وبرقرار رہی کہ جس وقت تک پنجاب کا ملک دہلی کے تخت کا خراج گذار رہا لیکن بعد اس کے رفتہ رفتہ چغتائی گورنمنٹ میں بباعث کاہلی وسُستی وعیش پسندی ونالیاقتی تخت نشینوں کے بہت سافتور آگیا اور کئی ملک ہاتھ سے نکل گئے انہیں دنوں میں اکثر حصہ پنجاب کا گورنمنٹ چغتائی سے منقطع ہو کر یہ ملک ایک ایسی بیوہ عورت کی طرح ہوگیاجس کے سر پر کوئی سرپرست نہ ہو اور خدا ئے تعالیٰ کے اعجوبہ قدرتؔ نے سکھوں کی قوم کوجو دہقان بے تمیز تھی ترقی دیناچاہاچنانچہ اُن کی ترقی اور تنزل کے دونوں زمانے پچاس برس کے اندر اندر ختم ہوکر اُن کا قصہ بھی خواب خیال کی طرح ہو گیا۔ غرض اس زمانہ میں کہ جب چغتائی سلطنت نے اپنی نالیاقتی اور اپنی بدانتظامی سے پنجاب کے اس حصہ سے بکلّی دستبرداری اختیار کی تو ان دنوں میں بڑے بڑے زمیندار اس نواح کے خود مختار بن کر اپنے اقتدار کامل کانقشہ جمانے لگے۔ سو انہیں ایام میں بفضل واحسان الٰہی اس عاجز کے پرداداصاحب مرزا گل محمد مرحوم اپنے تعلقہ زمینداری کے ایک مستقل رئیس اور طوائف الملوک میں سے بنکر ایک چھوٹے سے علاقہ کے جو صرف چورا ۸۴سی یاپچا ۸۵سی گاؤں رہ گئے تھے کامل اقتدار