دنیا میں پیداہو گا درحقیقت اِسی آیت کو سورۃ الزلزال میں مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ سورۃ الزلزال سے پہلے سورۃ القدر نازل کرکے یہ ظاہر فرمایا گیا ہے کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ خدائے تعالیٰ کا کلام لیلۃ القدر میں ہی نازل ہوتاہے اور اس کا نبی لیلۃ القدر میں ہی دنیا میں نزول فرماتا ہے اور لیلۃ القدر میں ہی وہ فرشتے اُترتے ہیں جن کے ذریعہ سے دُنیاؔ میں نیکی کی طرف تحریکیں پیداہوتی ہیں اور وہ ضلالت کی پُر ظلمت رات سے شروع کر کے طلوع صبح صداقت تک اسی کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتے رہیں۔ پھر بعد اس سورۃ کے خدائے تعالیٰ نے سورۃ البیّنہ میں بطور نظیر کے بیان کیا کہ لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُۙ ۱؂۔‏ یعنی جن سخت بلاؤں میں اہلؔ کتاب اور مشرکین مبتلا تھے اُن سے نجات پانے کی کوئی بقیہ حاشیہ۔ منشاء ہے۔ اچھی طرح لوگوں پر ظاہر ہوجائے۔ واضح ہو کہ اُن کاغذات اور پُرانی تحریرات سے کہ جو اکابراس خاندان کے چھوڑ گئے ہیں ثابت ہوتا ہے کہ بابر بادشاہ کے وقت میں کہ جو چغتائی سلطنت کا مورث اعلیٰ تھا بزرگ اجداد اس نیاز مند الٰہی کے خاص سمر قند سے ایک جماعت کثیرکے ساتھ کسی سبب سے جو بیان نہیں کیا گیا ہجرت اختیار کرکے دہلی میں پہنچے اور دراصل یہ بات اُن کاغذات سے اچھی طرح واضح نہیں ہوتی کہ کیا وہ بابر کے ساتھ ہی ہندوستان میں داخل ہوئے تھے یا بعد اس کے بلا توقف اس ملک میں پہنچ گئے۔ لیکن یہ امر اکثر کاغذات کے دؔ یکھنے سے بخوبی ثابت ہوتا ہے کہ گو وہ ساتھ پہنچے ہوں یا کچھ دن پیچھے سے آئے ہوں مگر انہیں شاہی خاندان سے کچھ ایسا خاص تعلق تھاجس کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ کی نظر میں معزز سرداروں میں سے شمار کئے گئے تھے چنانچہ بادشاہ وقت سے پنجاب میں بہت سے دیہات بطور جاگیر کے اُنہیں ملے اور ایک بڑی زمینداری کے وہ تعلق دار ٹھہرائے گئے اور ان دیہات کے وسط میں ایک میدان میں انہوں نے قلعہ کے طور پر ایک قصبہ اپنی سکونت کے لئے آباد کیا جس کانام اسلام پورقاضی ماجھی رکھا یہی اسلام پور ہے جو اَب قادیان کے نام سے مشہور ہے۔ اس قصبہ کے گردا گرد ایک فصیل تھی جس کی بلندی بیس فٹ کے قریب ہوگی اور عرض اس قدر تھا کہ تین چھکڑے ایک دوسرے کے برابر اس پر چل سکتے تھے چار بڑے بڑےؔ بُرج تھے۔