پس نائبؔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول کے وقت جو لیلۃ القدر مقررکی گئی ہے وہ درحقیقت اس لیلۃ القدر کی ایک شاخ ہے یا یوں کہو کہ اس کا ایکِ ظل ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ہے خدائے تعالیٰ نے اس لیلۃ القدر کی نہایت درجہ کی شان بلند کی ہے جیساکہ اُس کے حق میں یہ آیت کریمہ ہے کہ 3 ۱؂ یعنی اس لیلۃ القدر کے زمانہ میں جو قیامت تک مُمتد ہے ہریک حکمت اور معرفت کیؔ باتیں دنیا میں شائع کردی جائیں گی اور انواع اقسام کے علوم غریبہ و فنون نادرہ و صناعات عجیبہ صفحۂ عالم میں پھیلا دئے جائیں گے اور انسانی قویٰ میں موافق اُن کی مختلف استعدادوں اور مختلف قسم کے امکان بسطت علم اور عقل کے جو کچھ لیاقتیں مخفی ہیں یا جہاں تک وہ ترقی کر سکتے ہیں سب کچھ بمنصہ ظہور لایا جائے گا لیکن یہ سب کچھ ان دنوں میں پر زور تحریکوں سے ہوتارہے گا کہ جب کوئی نائب رسو لؔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیہ حاشیہ۔ اور ایک پھل قوت ایمانی کا اسرار حقہ ومعارف دینیہ کاذخیرہ ہے جو اس عاجز کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے عنایت ہوا ہے۔ پس جو شخص اس عاجز کی تالیفات پر نظر ڈالے گا یا اس عاجز کی صحبت میں رہے گا اُس پر یہ حقیقت آپ ہی کھل جائیگی کہ کس قدر خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو دقائق وحقائق دینیہ سے حصہ دیا ہے۔ دوسری اور تیسری علامت یعنی یہ کہ بخاری یا سمرقندی الاصل ہونا اور زمیندار اور زمینداری کے ممیّز خاندان میں سے ہونا یہ دونوں علامتیں صریح اور بیّن طور پر اس عاجز میں ثابت ہیں اور اس جگہ مجھےؔ قرینِ مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ اپنے آباء کی لائف یعنی سوانح زندگی کسی قدر اختصار کے ساتھ لکھوں سو پہلے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ عرصہ قریب بیس برس کے ہوا ہوگا کہ ایک انگریز مسٹر گریفن نام نے بھی جو اس ضلع میں ڈپٹی کمشنر رہ چکا ہے اور ریاست بھوپال اور راجپوتانہ ریاستوں کا رزیڈنٹ بھی رہا ہے پنجا ب کے رئیسوں کا ایک سوانح تاریخ کے طور پر تالیف کر کے چھپوایا تھا اس میں انہوں نے میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کا ذکر کرکے کچھ مختصر طور پر اُن کے زمینداری خاندان کاحال اور سمر قندی الاصل ہونا لکھا ہے لیکن میں اس جگہ کسی قدر مفصل بیان کرنے کی غرض سے ان تمام امور کو وضاحت سے لکھنا چاہتا ہوں جو اس حدیث نبو ی کی کامل تشریح کے لئے بطور مصداق کے ہیں تا اس عاجز کا ابتدؔ ا سے سمرقندی الاصل ہونا اور ابتدا سے یہ خاندان ایک زمینداری خاندان ہونا جیساکہ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا