نبیوں کا یہی تھا کہ محل شناس لیکچرار کی طرح ضرورتوں کے وقتوں میں مختلف مجالس اور محافل میں اُن کے حال کے مطابق روح سے قوّت پا کر تقریر کرتے تھے۔ مگر نہ اِس زمانہ کے متکلّموں کی طرح کہ جن کو اپنی تقریر سے فقط اپنا علمی سرمایہ دکھلانا منظور ہوتا ہے۔ یا یہ غرض ہوتی ہے کہ اپنی جھوٹی منطق اور سو فسطائی حُجّتوں سے کسی سادہ لوح کو اپنے پیچ میں لاویں اور پھر اپنے سے زیادہ جہنّم کے لائق کریںبلکہ انبیاءنہایت سادگی سے کلام کرتے اور جو اپنے دل سے اُبلتا تھا وہ دوسروں کے دلوں میں ڈالتے تھے۔اُن کے کلمات قدسیّہ عین محل اور حاجت کے وقت پر ہوتے تھے اور مخا طبین کو شغل یا افسانہ کی طرح کچھ نہیں سُناتے تھے بلکہ اُن کو بیمار دیکھ کر اور طرح طرح کے آفات ِ روحانی میں مبتلا پا کر علاج کے طور پر اُن کو نصیحتیں کرتے تھے یا حُججِ قاطعہ سے اُن کے اوہام کو رفع فرماتے تھے۔ اور اُن کی گفتگو میں الفاظ تھوڑے اور معانی بہت ہوتے تھے۔ سو یہی قاعدہ یہ عاجز ملحوظ رکھتا ہے اور وار دین اور صادرین کی استعداد کے موافق اور اُن کی
اس کے سامنے اس کی طرف اشارہ کر کے اُس پرلعنت کی اور باقی حواری جو بڑی دوستی کادم بھرتے تھے بھاگ گئے اوراپنے دلوں میں مسیح کی نسبت کئی طرح کے شک انہوں نے پیدا کر لئے۔ لیکن چونکہ وہ راستباز تھا اس لئے خدا نے پھر اس کے کارخانہ کو مرنے کے بعد زندہ کیا۔ مسیح کی دوبارہ زندگی جو عیسائیوں کے خیال میں جمی ہوئی ہے درحقیقت یہ اس کے مذہب کی زندگی کی طرف اشارہ ہے جو مرنے کے بعد پھر زندہ کیا گیا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے مجھے بھی بشارت دی کہ موت کے بعد میں پھر تجھے حیات بخشوں گا۔ اور فرمایا کہ جو لوگ خدا کے مقرب ہیں وہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجایا کرتے ہیں اور فرمایا کہ میں اپنی چمکار دکھلاو ¿ں گا اور اپنی قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاو ¿ں گا۔ پس میری اس دوبارہ زندگی سے مراد بھی میرے مقاصد کی زندگی ہے مگر کم ہیں وہ لوگ جو ان بھیدوں کو سمجھتے ہیں۔ فقط منہ