اور اُن کی کمزوری کو دور کر دیا گیا اس کا علم خدا تعالیٰ کو ہے۔ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ زبانی تقریریں جو سائلین کے سوالات کے جواب میں کی گئیں یا کی جاتی ہیں یا اپنی طرف سے محل اور موقعہ کے مناسب کچھ بیان کیا جاتا ہے یہ طریق بعض صورتوں میں تالیفات کی نسبت نہایت مفید اورمو ¿ ثر اور جلد تر دلوں میں بیٹھنے والا ثابت ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام نبی اس طریق کو ملحوظ رکھتے رہے ہیں اور بجُز خدا تعالیٰ کے کلام کے جوخاص طور پر بلکہ قلم بند ہو کر شائع کیا گیا باقی جس قدر مقالات انبیاءہیںوہ اپنے اپنے محل پر تقریروں کی طرح پھیلتے رہے ہیں۔ عام قاعدہ حضرت مسیح ابن مریم کا معاملہ پڑا تھا بدرجہا بہتر اور حال کی ا سلامی ریا ستوں سے بلحاظ امن اور عام رفاہیت کے پھیلانے اور آزادی بخشنے اور حفاظت اور تربیت رعایا اور انتظام قانون معدلت اور سرکوبی مجرموں کے بمراتب افضل ہے۔ خدا تعالیٰ کی عمیق حکمت نے جیسا کہ مسیح کو یہودیوں کے ایام حکومت میں اور اُن کی گورنمنٹ کے ماتحت مبعوث نہیں فرمایا تھا۔ ایسا ہی اس عاجز کی نسبت بھی یہی مصلحت مرعی رکھی گئی تاسمجھنے والوں کے لئے نشان ہو۔ اگر زمانہ حال کے منکر میرے ساتھ باستہزاءپیش آویں تو افسوس کا مقام نہیں۔ کیونکہ ان سے پہلے جو گزرے ہیں انہوں نے اِن سے بد تر اپنے وقت کے نبیوں کے ساتھ سلوک کیا مسیح سے بھی بہت مرتبہ ہنسی ٹھٹھا ہوا۔ ایک دفعہ بھائیوں نے ہی جو ایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے چاہا کہ اس کو دیوانہ قرار دے کر قید خانہ میں مقیّد کرادیں۔ اور بیگانوں نے تو کئی دفعہ اُس کو جان سے مار دینے کا ارادہ کیا اور اُس پر پتھر چلائے اور نہایت تحقیر کی نظر سے اُس کے مُنہ پر ُتھوکا۔ بلکہ ایک دفعہ اس کو اپنے زعم میں صلیب پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ مگر چونکہ ہڈی نہیں توڑی گئی تھی اس لئے وہ ایک خوش اعتقاد اور نیک آدمی کی حمایت سے بچ گیا اور بقیہ ایامِ زندگی بسر کر کے آسمان کی طرف اُٹھایا گیا۔ مسیح کے ارادت مندوں اور دن رات کے دوستوں اور رفیقوں نے بھی لغزش کھائی۔ ایک نے تیس روپے رشوت لے کر اس کو پکڑوا دیا اور ایک نے