ضرورتوں کے لحاظ سے اور اُن کے امراض لاحقہ کے خیال سے ہمیشہ باب ِ تقریر کھلا رہتا ہے٭کیونکہ بُرائی کو نشانہ کے طور پردیکھ کر اس کے روکنے کے لئے نصائح ضروریہ کی تیر اندازی کرنا اور بگڑے ہوئے اخلاق کو ایسے عضو کی طرح پا کر جو اپنے محل سے ٹل گیا ہو اپنی حقیقی صورت اور محل پر لانا جیسے یہ علاج بیمار کے رُوبرو ہونے کی حالت میں متصوّر ہے اور کسی حالت میں کماحقّہ ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے چندیں ہزار نبی اور رسول بھیجے اور انکی شرفِ صحبت میں مشرّف ہونے کا حکم دیاتا ہر ایک زمانہ کے لوگ چشم دید نمونوں کو پا کر اور ان کے وجود کو
اس جگہ یہ عجیب قصہ لکھنے کے لائق ہے کہ ایک دفعہ مجھے علیگڑھ میں جانے کا اتفاق ہوا اور مرض ضعف دماغ کی وجہ سے جس کا قادیان میں بھی کچھ مدت پہلے دورہ ہو چکا تھا میں اس لائق نہیں تھا کہ زیادہ گفتگویا اور کوئی دماغی محنت کا کام کر سکتا اور ابھی میری یہی حالت ہے کہ میں زیادہ بات کرنی یا حد سے زیادہ فکر اور خوض کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں علیگڑھ کے ایک مولوی صاحب محمد اسمٰعیل نام مجھ سے ملے اور انہوں نے نہایت انکساری سے وعظ کے لئے درخواست کی اور کہا کہ لوگ مدت سے آپکے شایق ہیں۔ بہتر ہے کہ سب لوگ ایک مکان میں جمع ہوں اور آپ کچھ وعظ فرماویں۔ چونکہ مجھے ہمیشہ سے یہی عشق اور یہی دلی خواہش ہے کہ حق باتوں کو لوگوں پر ظاہر کروں اس لئے میں نے اس درخواست کو بشوق دل قبول کیا اور چاہا کہ لوگوں کے عام مجمع میں اسلام کی حقیقت بیان کروںکہ اسلام کیا چیز ہے اور اب لوگ اُس کو کیاسمجھ رہے ہیں اور مولوی صاحب کو کہا بھی گیا کہ انشاءاللہ اسلام کی حقیقت بیان کی جائیگی۔ لیکن بعد اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روکا گیا۔مجھے یقین ہے کہ چونکہ میری صحت کی حالت اچھی نہیں تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ زیادہ مغز خواری کر کے کسی جسمانی بلامیں پڑوں اس لئے اُس نے وعظ کرنے سے مجھے روک دیا۔ایک دفعہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی اتفاق ہوا تھا کہ میری ضعف کی حالت میں ایک نبی گزشتہ نبیوں میں سے کشفی طور پر مجھ کو ملے اور مجھے بطور ہمدردی اور نصیحت