لیکن سب سے بڑی لیلۃ القدر وہ ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہؔ وسلم کو عطاکی گئی ہے درحقیقت اس لیلۃ القدر کا دامن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور جو کچھ انسانوں میں دلی اور دماغی قویٰ کی جنبش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک ہو رہی ہے وہ لیلۃ القدر کی تاثیریں ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ سعیدوں کے عقلی قویٰ میں کامل اور مستقیم طور پر وہ جنبشیں ہوتیں ہیں اور اشقیاء کے عقلی قویٰ ایک کج اور غیر مستقیم طور سےؔ جنبش میں آتے ہیں اور جس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نائب دنیا میں پیداہوتاہے تو یہ تحریکیں ایک بڑی تیزی سے اپنا کام کرتی ہیں بلکہ اُسی زمانہ سے کہ وہ نائب رحم مادر میں آوے پوشیدہ طور پر انسانی قویٰ کچھ کچھ جنبش شروع کرتے ہیں اور حسب استعداد اُن میں ایک حرکت پیداہو جاتی ہے اور اس نائب کو نیا بت کے اختیار ات ملنے کے وقت تو وہ جنبش نہایت تیز ہو جاتی ہے بقیہ حاشیہ۔ اُن کے برابر بھی نہیں دیکھ سکتیں آپ ہی یہ حدیثیں سُناتے ہوکہ الاٰیات بعد المأتین اورکہتے ہوکہ بارہ سو برس کے بعد مسیح موعودوغیرہ نشانیوں کاظاہر ہوناضروری ہے بلکہ تم میں سے وہ مولوی بھی ہیں جنہوں نے شرطی طور پر کتابیں لکھ ماریں اور چھپوابھی دیں کہ چودھویں صدی کے اوائل میں مسیح اور مہدی موعود کا ظاہر ہوناضروری ہے لیکن جب خدائے تعالیٰ نے اپنے پاک نشانوں کو ظاہر کیا تو اول المنکرین تم لوگ ہی ٹھہرے۔ اورؔ قوت ایمانی کے آثار میں سے جو اس عاجز کو دی گئی ہے استجابت دعا بھی ہے اس عاجز پر ظاہر کیاگیا ہے کہ جو بات اس عاجز کی دعا کے ذریعہ سے ردّ کی جائے وہ کسی اور ذریعہ سے قبول نہیں ہو سکتی اور جو دروازہ اس عاجز کے ذریعہ سے کھولا جائے وہ کسی اور ذریعہ سے بند نہیں ہو سکتالیکن یہ قبولیت کی برکتیں صرف اُن لوگوں پر اپنا اثر ڈالتی ہیں کہ جو غایت درجہ کے دوست یاغایت درجہ کے دشمن ہوں جو شخص پور ے اخلاص سے رجوع کرتا ہے یعنی ایسے اخلاص سے جس میں کسی قسم کا کھوٹ پوشیدہ نہیں جس کاانجام بدظنی وبد اعتقادی نہیں جس میں کوئی چُھپی ہوئی نفاق کی زہر نہیں وہ بے شک ان برکتوں کو دیکھ سکتا ہے اور ان سے حصہ پاسکتا ہے او روہ بلاشبہ اس چشمہ کو اپنی استعداد کے موافق شناخت کرؔ لے گا مگر جو خلوص کے ساتھ نہیں ڈھونڈے گا وہ اپنے ہی قصور کی وجہ سے محروم رہ جائے گا اور اپنی ہی اجنبیت کے باعث سے بیگانہ رہے گا۔