اُن راستبازوں کی طرف کھنچے چلے آئے اور جو شرارت اور شیطان کیؔ ذرّیت تھے وہ اس تحریک سے خوابِ غفلت سے جاگ تو اُٹھے اور دینیات کی طرف متوجہ بھی ہوگئے لیکن بباعث نقصان استعداد حق کی طرف رُخ نہ کر سکے سو فعل ملائک کا جو ربّانی مصلح کے ساتھ اُترتے ہیں ہریک انسان پر ہوتاہے لیکن اس فعل کا نیکوں پر نیک اثر اور بدوں پر بد اثر پڑتاہے ؂ باراں کہ درلطافت طبعش خلاف نیست در باغ لالہ روید درشورہ بوم و خس اورؔ جیساکہ ہم ابھی اوپر بیان کر چکے ہیں یہ آیت کریمہ فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۱؂ اسی مختلف طور کے اثر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہر نبی کے نزول کے وقت ایک لیلۃ القدر ہوتی ہے جس میں وہ نبی اور وہ کتاب جو اس کو دی گئی ہے آسمان سے نازل ہوتی ہے اور فرشتے آسمان سے اُترتے ہیں بقیہ حاشیہ۔ روحانی برکات کا جو اپنے مذہب کی اتباع سے اس کو حاصل ہوں اس عاجز سے موازنہ کرے لیکن آج تک کوئی مقابل پرنہیں اُٹھا اور نہ اؔ نسان ضعیف اور ہیچ کی یہ طاقت ہے کہ صرف اپنی مکّاری اور شرارتوں کے منصوبہ سے یا متعصبانہ ہٹ سے اس سلسلہ کے سامنے کھڑا ہوسکے جسکو خدائے تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور میں سچ کہتا ہوں کہ اگر کوئی اس سلسلہ کے سامنے اپنی برکات نمائی کی رو سے کھڑا ہو تو نہایت درجہ کی ذلّت سے گرادیا جائیگاکیونکہ یہ کام اور یہ سلسلہ انسان کی طرف سے نہیں بلکہ اُس ذات زبردست اور قوی کی طرف سے ہے جس کے ہاتھوں نے آسمانوں کو اُن کے تمام اجرام کے ساتھ بنایا اور زمین کو اس کے باشندوں کے لئے بچھادیا۔افسوس کہ ہماری قو م کے مولوی اور علماء یُوں تو تکفیر کے لئے بہت جلد کاغذؔ او رقلم دوات لیکر بیٹھ جاتے ہیں لیکن ذرہ سوچتے نہیں کہ کیا یہ ہیبت اور رعب باطل میں ہؤاکرتا ہے کہ تمام دنیاکو مقابلہ کے لئے کہاجائے اور کوئی سامنے نہ آسکے کیاوہ شجاعت و استقامت جھوٹوں میں بھی کسی نے دیکھی ہے جو ایک عالم کے سامنے اس جگہ ظاہرکی گئی۔ اگر انہیں شک ہے تو مخالفین اسلام کے جسقدر پیشوااور واعظ اورمعلّم ہیں اُن کے دروازہ پر جائیں اور اپنے ظنون فاسدہ کا سہارا دیکر انہیں میرے مقابلہ پر روحانی امور کے موازنہ کے لئے کھڑاکریں پھر دیکھیں کہ خدائے تعالیٰ میری حمایت کرتاہے یا نہیں۔ اے خشک مولویو! اور پُر بدعت زاہدؔ و! تم پر افسوس کہ تمھاری آنکھیں عوام الناس سے زیادہ تو کیا