آسمانی مصلح پیداہو گیا ہے کیونکہ بغیر روح القدس کے نزول کےؔ وہ حرکت پیداہوناممکن نہیں اور وہ حرکت حسب استعداد و طبائع دوقسم کی ہوتی ہے حرکت تامہ اور حرکت ناقصہ۔ حرکت تامہ وہ حرکت ہے جوروح میں صفائی اور سادگی بخش کر اور عقل اور فہم کو کافی طور پر تیزکرکے روبحق کردیتی ہے۔اور حرکت ناقصہ وہ ہے جو روح القدس کی تحریک سے عقل اور فہم تو کسی قدر تیزہو جاتا ہے مگر بباعث عدم سلامت استعداد کے وہ روبحق نہیں ہو سکتابلکہ مصداق اس آیت کا ہو جاتاہے کہ فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۱؂یعنی عقل اور فہم کے جنبش میں آنے سے پچھلی حالت اُس شخص کی پہلی حالت سے بد تر ہو جاتی ہے جیسا کہ تمام نبیوں کے وقت میں یہی ہوتارہا کہ جب اُن کے نزول کے ساتھ ملائک کا نزول ہوا توملائکہ کی اندرونی تحریک سے ہریک طبیعت عام طور پر جنبش میں آگئی تب جو لوگ راستی کے فرزند تھے وہ بقیہ حاشیہ۔ دین احمد ی کے مکّہ معظمہ میں قدم جماد ئے تھے۔ اس پہلی علامت کا ثبوت اس عاجز کی نسبت ہریک غور کرنے والے پر ظاہر ہوگا کہ یہ عاجز اسی قوتِ ایمانی کے جوش سے عام طور پر دعوت اسلام کے لئے کھڑا ہوا اور بارہ ہزار کے قریب اشتہارات دعوت اسلام رجسٹریؔ کراکر تمام قوموں کے پیشواؤں اور امیروں اور والیانِ ملک کے نام روانہ کئے یہانتک کہ ایک خط اور ایک اشتہار بذریعہ رجسٹری گورنمنٹ برطانیہ کے شہزادہ ولی عہد کے نام بھی روانہ کیا اور وزیراعظم تخت انگلستان گلیڈ سٹون کے نام بھی ایک پرچہ اشتہار اور خط روانہ کیا گیا۔ ایسا ہی شہزادہ بسمارک کے نام اور دوسرے نامی امراء کے نام مختلف ملکوں میں اشتہار ات وخطوط روانہ کئے گئے جن سے ایک صندوق پُر ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کام بجُز قوت ایمانی کے انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔ یہ بات خود ستائی کے طور پر نہیں بلکہ حقیقت نمائی کے طور پر ہے تاحق کے ؔ طالبوں پر کوئی بات مشتبہ نہ رہے۔ ماسوااس کے قوت ایمانی کے انوار جو تائیداتِ غیبیہ کے پیرایہ میں بطور خارق عادت ظاہر ہوتے ہیں جوخدائے تعالیٰ کے فضل ورحم اور قر ب پر دلالت کرتے ہیں اُن کے بارے میں بھی انہیں اشتہارات میں لکھاگیا ہے جو بباعث قوت ایمانی وقدم بر صراط مستقیم یہ سب نعمتیں اس عاجز کو خاص طور پر عطا کی گئی ہیں کسی مخالف مذہب کو یہ مرتبہ ہرگز حاصل نہیں اگر ہے تو وہ مقابلہ کے لئے کھڑا ہووے اور اپنی