رات میں جن جن نبیوں سے ملاقاؔ ت کی اُن سب کا ایک ہی طرز اور ایک ہی طور پر حال بیان کیا ہے حضرت مسیح کی کوئی خصوصیت بیان نہیں فرمائی۔کیا یہ مقام علماء کے توجہ کرنے کے لائق نہیں؟
ایک نہایت لطیف نکتہ جو سورۃالقدر کے معانی پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیاہے کہ جس وقت کوئی آسمانی مصلح زمین پر آتا ہےؔ تو اس کے ساتھ فرشتے آسمان سے اُتر کر مستعد لوگوں کو حق کی طرف کھینچتے ہیں پس اِن آیات کے مفہوم سے یہ جدید فائدہ حاصل ہوتاہے کہ اگر سخت ضلالت اور غفلت کے زمانہ میں یک دفعہ ایک خارق عادت طور پر انسانوں کے قویٰ میں خود بخود مذہب کی تفتیش کی طرف حرکت پیداہونی شروع ہوجائے تو وہ اس بات کی علامت ہو گی کہ کوئی
بقیہ حاشیہ۔ لکھاہے وہ بھی درحقیقت اسی اعزاز کے ارادہ سے ہے ورنہ ہر جگہ درحقیقت رجل ہی مرادہے اس تمام تحقیق سے معلوم ہوا کہ حارث کی نسبت یہی عمدہ علامت احادیث میں ہے کہ ایمانی نمونہ لیکر دنیا میں آئے گا اور اپنی قوت ایمانی کی شاخیں اور اُن کے پھل ظاہر کر کے ضعیفوں کو تقویت بخشے گا اور کمزوروں کو سنبھال لے گا اور اپنی صداقت کی شعاعوں سے شپّر سیرت مخالفوں کو خیرہ کر دے گا لیکن مومنوں کے لئے آنکھؔ کی روشنی اور کلیجے کی ٹھنڈک کی طرح سکینت اور اطمینان اور تسلی کا موجب ہو گا اورایمانی معارف کا معلّم بن کر ایمانی روشنی کو قوم میں پھیلائے گا۔ اورہم رسالہ فتح اسلام میں ظاہر کر آئے ہیں کہ درحقیقت مسیح بھی ایک ایمانی معارف کاسکھلانے والااور ایمانی معلم تھا اور یہ بھی ظاہر کر آئے ہیں کہ مسیح بھی ظاہری لڑائیوں کے لئے نہیں آئے گا بلکہ بخاری نے یضع الحرب اس کی علامت لکھی ہے اور یہ کہ اُس کا قتل کرنا اپنے دم کی ہوا سے ہوگا نہ تلوار سے یعنی موجّہ باتوں سے روحانی طورپر قتل کر ے گا۔ سو مسیح اور حارث کا ان دونوں علامتوں میں شریک ہونا اس بات پر پختہ دلیل ہے کہ حارث اورمسیحؔ موعود دراصل ایک ہی ہیں اور یہ حارث موعودکی پہلی علامت ہے جو ہم نے لکھی ہے یعنی یہ کہ وہ نہ سیف کے ساتھ نہ سنان کے ساتھ بلکہ اپنی قوت ایمانی کے ساتھ اور اپنے انوارعرفان کے ساتھ اپنی قوم کو تقویت دے گاجیسے قریش نے یعنی صدیقؔؓ وفاروقؔ ؓ وحیدرؔ کرارؓ ودیگر مومنین مکہ نے انہیں صفات استقامت کے ساتھ