اور حضرت موسیٰؑ کی روح سے آنحضرتصلی اللہ علیہ وسلم کیؔ ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ایساہی بغیر ایک ذرہ فر ق کے حضرت عیسیٰ کی روح سے ملاقات ہو نا بیان کیا ہے بلکہ حضرت موسیٰ کی روح کا کھلے کھلے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنا مفصل طور پر لکھا ہے پس اس حدیث کو پڑھ کر کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ اگر حضرت مسیح جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں تو پھر ایساہی حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ وغیرہ انبیاء بھی اس جسم کے ساتھ اٹھاؔ ئے گئے ہوں گے کیونکہ معراج کی رات میں وہ نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی رنگ میں آسمانوں پر نظر آئے ہیں یہ نہیں کہ کوئی خاص وَردی یا کوئی خاص علامت مجسم اٹھائے جانے کی حضرت مسیح میں دیکھی ہو اور دوسرے نبیوں میں وہ علامت نہ پائی گئی ہو۔تمام حدیثوں کے پڑھنے والے اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی
بقیہ حاشیہ۔ کفروا وصدّوا عن سبیل اللّٰہ ردّ علیھم رجل من فارس شکراللّٰہ سعیہ خذوا التوحید التوحید یاابناء الفارس۔اس الہام میں صریح اور صاف طورپر بیان کیاگیا ہے کہ وہ فارسی الاصل جس کا دوسرا نام حارث بھی ہے بڑیؔ خصوصیت یہ رکھتا ہے کہ اس کا ایمان نہایت درجہ کا قوی ہے اگر ایمان ثریامیں بھی ہوتا تو وہ مرد وہیں اس کو پالیتاخدا اس کا شکر گزار ہے کہ اس نے دین اسلام کے منکروں کے سب الزامات وشبہات کو رد کیا اور حجت کو پورا کر دیا توحید کو پکڑو توحید کو پکڑو اے ابنائے فارس یعنی توحید کی راہیں صاف کرو اور توحید سکھلاؤ اور توحید جو دنیا سے گری جاتی اور گم ہوتی جاتی ہے اس کو پکڑ لو کہ یہی سب سے مقدّم ہے اور اسی کو لوگ بھول گئے اور اس جگہ اِبْنکی جگہ جو اَبْناء کالفظ اختیار کیا گیا حالانکہ مخاطب صرف ایک شخص ہے یعنی یہ عاجز۔ یہ بطور اعزاؔ ز کے حضرت باری تعالیٰ کی طرف سے ہے جیسا کہ بعض حدیثوں میں بجائے اس حدیث کے کہ لو کان الایمان معلقًا بالثریا لنالہ رجل من فارس ہے رجال من فارس