جس کو ایک الگ اُمت دی گئی آسمان سے اُتر آئے گا۔اس جگہ یاد رکھنا چاہیئے کہ امام محمد اسمٰعیل صاحب جو اپنی صحیح بخاری میں آنے والے مسیح کی نسبت صرف اس قدر حدیث بیان کرکے چُپ کر گئے کہ امامکم منکم اس سے صاف ثابت ہو تا ہے کہ دراصل حضرت اسمٰعیل بخاری صاحب کا یہی مذہب تھا کہ وہ ہرگز اس بات کے قائل نہ تھے کہ سچ مچ مسیح ابن مریم آسمان سے اُتر آئےؔ گا بلکہ انہوں نے اس فقرہ میں جو امامکم منکم ہے صاف اور صریح طور پر اپنا مذہب ظاہر کر دیا ہے ایسا ہی حضرت بخاری صاحب نے اپنی صحیح میں معراج کی حدیث میں جو ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کا حال دوسرے انبیا سے آسمانوں پر لکھا ہے تو اس جگہ حضرت عیسیٰ کا کوئی خاص طور پر مجسم ہونا ہرگز بیان نہیں کیا بلکہ جیسے حضرت ابراہیم ؑ بقیہ حاشیہ۔ رو سے بہتا ہو گا ایسا ہی روحانی امور کے بیان کرنے اور روحانی اور عقلی حجتوں کو مخالفوں پر پورا کرنے کے لئےؔ بڑے زور سے رواں ہو گا اور وہ چشمہ اُسی چشمہ کا ہمرنگ ہو گا جو قریش کے مقدس بزرگوں صدیقؔ ؓ اور فاروقؔ ؓ اور علی مرتضیٰؓ کوملا تھا جن کے ایمان کو آسمان کے فرشتے بھی تعجب کی نگہ سے دیکھتے تھے اورجن کے صافی عرفان میں سے اس قدر علوم و انوار وبرکا ت وشجاعت واستقامت کے چشمے نکلے تھے کہ جس کا اندازہ کرنا انسان کاکام نہیں سوہمارے سیّد ومولیٰ فرماتے ہیں کہ وہ حار ث بھی جب آئے گا تو اسی ایمانی چشمہ وعرفانی منبع کے ذریعہ سے قوم کے پودوں کی آبیاری کرے گا اور اُن کے مرجھائے ہوئے دلوں کو پھر تازہ کردے گا اور مخالفوں کے تمام بیجا الزاموں کو اپنی صداقت کے پیروؔ ں کے نیچے کچل ڈالے گا تب اسلام پھر اپنی بلندی اور عظمت دکھائے گا اور بے حیا خنزیر قتل کئے جاویں گے اور مومنین کو وہ عزت کی کُرسی مل جائیگی جس کے وہ مستحق تھے۔ الغرض حدیث نبوی کی یہ تشریح ہے جو اس جگہ ہم نے بیان کر دی اور اسی کی طرف وہ الہام اشارہ کرتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہو چکا ہے۔ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید وپائے محمّدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔ اور اسی کی طرف وہ الہام بھی اشارہ کرتا ہے جو اس عاجز کی نسبت بحوالہ ایک حدیث نبوی کے جو پیشگوئی کے طور پر اس عاجز کے حق میں ہے خدائے تعالیٰ نے بیانؔ فرمایا ہے جو براہین میں درج ہے اور وہ یہ ہے لوکان الایمان معلّقًا بالثّریا لنا لہ رجل من فارس انّ الذین