دکھلاویں اور معقول طور پر ہمیں سمجھاویں کہ جس حالت میں قرآن شریف کھلے کھلے طور پر حضرت مسیح کے وفات پا جانے کا قائل ہے تو پھر باوجود اُن کے وفات پا جانے اور بہشت میں داخل ہو جانے کے پھر کیوں کر اُن کا وہ جسم جو بموجب نص قرآنی کے زمین میں دفن ہو چکا آسمان سے اُتر آئے گا اور اس جگہ صرف قرآن شریف ؔ ہی اُن کے مدعاکے منافی نہیں بلکہ احادیث صحیحہ ہی سخت منافی و مبائن پڑی ہیں مثلًا بخاری کی یہ حدیث کہجو امامکم منکم ہے اگر تاویلات کے شکنجہ پر نہ چڑھائی جاوے اور جیساکہ ظاہر الفاظ حدیث کے ہیں انہیں کے موافق معنے لئے جائیں تو صاف نظرآرہاہے کہ اس حدیث کے ظاہر ظاہر یہی معنے ہیں کہ وہ تمہارا امام ہوگا اور تم میں سے ہی ہو گا یعنی ایک مسلمان ہو گا نہ یہ کہ سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم جسؔ پر انجیل نازل ہوئی ہے بقیہ حاشیہ۔ پاس کیارکھا تھا جس کی توقع سے وہ اپنی جانوں اورعزتوں کو معرض خطر میں ڈالتے اور اپنی قوم سے پُرانے اور پُر نفع تعلقات کو توڑ لیتے اُس وقت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تنگی اور عُسر اور کس نپرسد اور کس نشناسد کازمانہ تھا اور آئندہ کی امیدیں باندھنے کے لئے کسی قسم کے قرائن وعلامات موجود نہ تھے سو انہوں نے اس غریب درویش کا (جو دراصل ایک عظیم الشان بادشاہ تھا) ایسےؔ نازک زمانہ میں وفاداری کے ساتھ محبت اور عشق سے بھرے ہوئے دل سے جو دامن پکڑا جس زمانہ میں آئندہ کے اقبال کی تو کیا امید خود اس مرد مصلح کی چند روز میں جان جاتی نظر آتی تھی یہ وفاداری کا تعلق محض قوت ایمانی کے جوش سے تھا جس کی مستی سے وہ اپنی جانیں دینے کے لئے ایسے کھڑے ہوگئے جیسے سخت درجہ کا پیاسا چشمہ شیریں پر بے اختیار کھڑا ہوجاتاہے۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسی طرح جووہ حارث آئے گا تو وہ مومنین کو تیر وتبر سے مدد نہیں دے گا بلکہ مومنین قریش کی اس مخصوص حالت اور اس مخصوص ماجرا کی طرح جو مکہ میں اُن پر گذرتاتھا جبکہ اُن کے ساتھ دوسری قوموں میں سےؔ کوئی نہ تھا اور نہ ہتھیار استعمال کئے جاتے تھے بلکہ صرف قوت ایمانی اور نورعرفانی کی چمکاریں گفتار اور کردار سے دکھلارہے تھے اور انہیں کے ذریعہ سے مخالفوں پر اثر ڈال رہے تھے یہی طریق اس حارث کا بھی مومنوں کو اپنی پناہ میں لانے کے بارہ میں ہوگاکہ وہ اپنی قوت ایمانی اور نور عرفانی کے آثار وانوار دکھلا کر مخالفین کے منہ بند کرے گا اور مستعد دلوں پر اس کا اثر ڈالے گا اور اس کی قوت ایمانی اور نور عرفانی کا چشمہ جیسا شجاعت واستقامت وصدق وصفا ومحبت ووفا کی