یہ بات خود ظاہر ہے کہ جب کوئی حدیث اپنے کسی مفہوم کی رُو سے قرآن شریف کے بیّنات سے مخالف واقع ہو تو قرآن شریف پر ایمان لانا مقدم ہے کیونکہ حدیث کا مرتبہ قرآن شریف کے مرتبہ سے ہرگز مساوی نہیں اور جو کچھؔ حدیثوں کے بارہ میں ایسے احتمال پیدا ہو سکتے ہیں جو حدیثوں کے وثوق کے درجہ کو کمزور کریں ان احتمالوں میں سے ایک بھی قرآن شریف کی نسبت عائد نہیں ہو سکتا پس کیوں نہ ہم ہر حال میں قرآن شریف کو ہی مقدم رکھیں جس کی صحت پر تمام قوم کو اتفاق اور جس کے محفوظ چلے آنے کے لئے اعلیٰ درجہ کے دلائل ہمارے پاس ہیں اور ہمارے علماء پر یہ بات لازم وواجب ہے کہ قبل اس کے کہ اس بار ہ میں اس عاجز پرؔ کوئی اعتراض کریں پہلے قرآن شریف اور احادیث کے مضامین میں پوری پوری تطبیق وتوفیق کرکے بقیہ حاشیہ۔ اس کی جماعت متفرق ہوجائے اس لئے آنحضرت صلعم پہلے سے تاکید کرتے ہیں کہ اے مومنو تم پر اُس حارث کی مدد واجب ہے ایسا نہ ہو کہ تم کسی کے بہکانے سے اس سعادت سے محروم رہ جاؤ۔ اس جگہ جو پیغمبر خدا صلعم نے بیان فرمایاجو مومنوں کو اُس کے ظہور سے قوت پہنچے گی اوراس کے میدان میں کھڑے ہوجانے سے اس تفرقہ زدہ جماعت میں ایک استحکام کی صورت پیداہوجائے گی اور وہ سپر کی طرح اُنکے لئے ہو جائے گا اوراُن کے قدم جم جانے کاموجب ہوگا جیسا کہ مکّہ میں اسلام کے قدم جمنے کے لئے صحابہ کبار موجب ہوگئے تھے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ تیغ اور تبر سے حمایت اسلام نہیںؔ کرے گا او رنہ اس کام کے لئے بھیجا جائے گا کیونکہ مکہ میں بیٹھ کر جو مومنین قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی تھی جس حمایت میں کوئی دوسری قوم کا آدمی اُن کے ساتھ شریک نہیں تھا الّاشاذو نادر و ہ صرف ایمانی قوت اور عرفانی طاقت کی حمایت تھی نہ کوئی تلوار میان سے نکالی گئی تھی اور نہ کوئی نیزہ ہاتھ میں پکڑا گیا تھا بلکہ انکو جسمانی مقابلہ کرنے سے سخت ممانعت تھی صرف قوت ایمانی اور نور عرفان کے چمکدار ہتھیار اوراُن ہتھیاروں کے جوہر جو صبر اور استقامت اورمحبت اوراخلاص اور وفا اور معارف الٰہیہ اور حقائق عالیہ دینیہ اُن کے پاس موجود تھے لوگوں کو دکھلاتے تھے گالیاں سنتے تھے جان کی دھمکیاں دیکرؔ ڈرائے جاتے تھے اور سب طرح کی ذلّتیں دیکھتے تھے پر کچھ ایسے نشۂ عشق میں مدہوش تھے کہ کسی خرابی کی پروانہیں رکھتے تھے اور کسی بلا سے ہراساں نہیں ہوتے تھے۔ دنیوی زندگی کے رُو سے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے