جہاں تک میں سوچتا ہوں یقینی طور پر یہ بات متنقش ہے کہ اب تک ہمارے مولویوں نے حدیثوں کو قرآن کے ساتھ تطبیق دینے کے لئے ایک ذرّہ توجہ مبذول نہیں فرمائی جس طرف کسی اتفاق سے خیالؔ کا رجوع ہو گیا اُسی پر زور دیتے چلے گئے ہیں۔مَیں یقینًا جانتا ہوں کہ ہمارے علماء کے لئے یہ امر کچھ سہل یا آسان بات نہیں کہ وہ قرآن شریف اور اپنے خیالات میں جو ظواہر الفاظ حدیثوں سے انہوں نے پیداکئے ہیں تطبیق و توفیق کر کے دکھلا سکیں بلکہ جس وقت وہ اس طرف متوجہ ہوں گے تو اُن کا نور قلب یا یوں کہو کہ کانشنس خود انہیں ملزم کرے گاکہ وہ اُن خیالات کو جو جسمانی طور پر اُن کے دلوں میں منقش ہیں ہرگزہرگز نصوص بیّنہ قرآنیہ سے مطابق نہیں کر سکتے اور نہ قرآن شریف کی اُن آیات میں کوئی راہ تاویل کی کھول سکتے ہیں اور
بقیہ حاشیہ۔ اور دین اسلام بیکس کی طرح پڑا ہو گا اورچاروں طرف سے مخالفوں کے حملے شروع ہوں گے۔ یہ شخص اسلام کی عزت قائم کرنے کے لئے بقوت تمام اُٹھے گا اور مومنین کوجہال کی زبان سے بچانے کے لئے بجوش ایمان کھڑا ہو گا اور نور عرفان کی روشنی سے طاقت پاکر انکو مخالفوں کے حملوں سے بچائے گا اور اُن سب کو اؔ پنی حمایت میں لے لے گا اور ایسا انہیں ٹھکانا دے گا جیسے قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیا تھا یعنی دشمن کے ہرایک الزام اورہر یک باز پُرس اور ہریک طلب ثبوت کے وقت میں سب مومنوں کے لئے سپر کی طرح ہو جائے گا اور اپنے اُس قوی ایمان سے جو نبی کی اتباع سے اُس نے حاصل کیا ہے صدیق اور فاروق اور حیدر کی طرح اسلامی برکتوں اور استقامتوں کو دکھلا کر مومنوں کے امن میں آجانے کا موجب ہوگا۔ ہریک مومن پر واجب ہے جو اس کی مدد کرے یا یہ کہ اس کو قبول کر لیوے۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک ایسا عظیم الشان سلسلہ اس حارث کے سپرد کیاجائے گاجس میں قوم کی امداد کی ضرورت ہو گی۔ جیسا کہ ہمؔ رسالہ فتح اسلام میں اس سلسلہ کی پانچوں شاخوں کا مفصل ذکر کر آئے ہیں اورنیز اس جگہ یہ بھی اشارتاً سمجھایاگیا ہے کہ وہ حارث بادشاہوں یا امیروں میں سے نہیں ہو گا تا ایسے مصارف کا اپنی ذات سے متحمل ہوسکے اور اس تاکید شدید کے کرنے سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اُس حارث کے ظہور کے وقت جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرے گا لوگ امتحان میں پڑ جائیں گے اور بہتیرے اُن میں سے مخالفت پر کھڑ ے ہوں گے اور مدد دینے سے روکیں گے بلکہ کوشش کریں گے کہ