قصور نہیں ہے لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۱؂ ماسوائے اس کے یہ بات بھی نہایت غورؔ کے قابل ہے کہ یہ خیال کہ سچ مچ مسیح بن مریم ہی بہشت سے نکل کر دنیا میں آجائیں گے تصریحات قرآنیہ سے بکلّی مخالف ہے۔قرآن شریف تین جگہ حضرت مسیح کا فوت ہو جانا کھلے کھلے طورپر بیان کرتا ہے اور حضرت مسیح کی طرف سے یہ عذرپیش کرتاہے کہ عیسائیوں نے جو انہیں اپنے زعم میں خدابنادیا تو اس سے مسیح پر کوئی الزام نہیں کیونکہ وہ اس ضلالت کے زمانہ سے پہلے فوت ہو چکا تھا۔غرض تعلیم قرآن تو یہ ہے کہ مسیح مدت سے فوتؔ ہو چکا ہے اب اگرہمارے علماء کو قرآن شریف کی نسبت حدیثوں کے ساتھ زیادہ پیارہے تو اُن پر یہ فرض ہے کہ احادیث کے ایسے معنے کریں جن سے قرآن شریف کے مضمون کی تکذیب لازم نہ آوے میرے خیال میں بقیہ حاشیہ۔ اس مقام میں درحقیقت کوئی ظاہری جنگ وجدل مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک روحانی فوج ہوگی کہ اُس حارث کو دی جائیگی جیسا کہ کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر تھامخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے ،مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا تب میں نے اُسؔ دوسرے کی طرف رُخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھااور اُسے میں نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے ، وہ میری اس بات کو سنکر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیاجائے گا تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگرچہ پانچہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پا سکتے ہیں اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی کَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِيْرَةً ۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۲؂ پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے خوشحال ہے مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت خفیہ نے میری نظر کو اُس کے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن امید رکھتا ہوں کہؔ کسی دوسرے وقت دکھایاجائے۔ اب بقیہ ترجمہ حدیث کا یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ حارث جب ظاہر ہوگا تووہ آل محمد کو (آل محمد کے فقرہ کی تفسیر بیان ہوچکی ہے ) قوت اور استواری بخشے گا اور ان کی پنا ہ ہوجائے گا یعنی ایسے وقت میں کہ جب مومنین غربت کی حالت میں ہوں گے ۱؂ الانعام:۱۶۵ ۲؂ البقرۃ:۲۵۰