تیسری شاخ اس کارخانہ کی واردین اور صادرین اور حق کی تلاش کے لئے سفر کرنے والے اور دیگر اغراض متفرّقہ سے آنیوالے ہیں جو اس آسمانی کار خانہ کی خبر پا کر اپنی اپنی نیّتوں کی تحریک سے ملاقات کے لئے آتے رہتے ہیں۔ یہ شاخ بھی برابر نشوونما میں ہے۔ اگرچہ بعض دنوں میں کچھ کم مگر بعض دنوں میں نہایت سرگرمی سے اس کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ان سات برسوں میں ساٹھ ۰ ۶ہزار سے کچھ زیادہ مہمان آئے ہوں گے اور جس قدر اُن میں سے مستعد لوگوں کو تقریری ذریعوں سے روحانی فائدہ پہنچایا گیا اور اُن کے مشکلات حل کر دئے گئے۔
نازل ہونا ضروری ہے تا دلوں کو حق کی طرف پھیریں سو تم اس نشان کے منتظر رہو۔ اگر فرشتوں کا نزول نہ ہوا اور اُن کے اُترنے کی نمایاں تاثیریں تم نے دنیا میں نہ دیکھیں اور حق کی طرف دلوںکی جنبش کو معمول سے زیادہ نہ پایا تو تم نے یہ سمجھنا کہ آسمان سے کوئی نازل نہیں ہوا۔ لیکن اگر یہ سب باتیں ظہور میں آگئیں تو تم انکار سے باز آو ¿ تا تم خدا تعالیٰ کے نزدیک سر کش قوم نہ ٹھہرو۔
دوسرا نشان یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو اُن نوروں سے خاص کیا ہے جو برگزیدہ بندوں کو ملتے ہیں جن کا دوسرے لوگ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ پس اگر تم کو شک ہو تو مقابلہ کے لئے آو ¿ اور یقینا سمجھو کہ تم ہر گز مقابلہ نہیں کر سکو گے۔ تمہارے پاس زبانیں ہیں مگر دل نہیں۔ جسم ہے مگر جان نہیں۔ آنکھوں کی پُتلی ہے مگر اُس میں نور نہیں۔ خدا تعالیٰ تمہیں نور بخشے تا تم دیکھ لو۔
تیسرا نشان یہ ہے کہ وہ بر گزیدہ نبی جس پر تم ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو اس پاک نبی علیہ السلام نے اس عاجز کے بارے میں لکھا ہے جو تمہاری صحاح میں موجود ہے جس پر آج تک تم نے کبھی غور نہیں کی۔ سو تم دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہانی دشمن ہو کہ اُن کی تصدیق کے لئے نہیں بلکہ تکذیب کے لئے فکر کر رہے ہو۔ اب بہتیرے تم میں سے کفر کا فتویٰ لکھیں گے اور اگر ممکن ہوتا تو قتل کردیتے۔ لیکن یہ حکومت اس قوم کی حکومت نہیں جو اشتعال میں بہت زیادہ اور سمجھنے میں بہت نالائق اور اخلاقی بُردباری سے بہت پیچھے رہی ہو اور یہودیت کی رُوح کو زندہ کر کے دکھلارہی ہو۔ یہ حکومت اگرچہ ایمانی فضیلتوں اور برکتوں کو اپنے ساتھ نہیں رکھتی تا ہم ہیرو ڈیس کے عہد حکومت سے جس کے ساتھ