ماسوائے اس کے ہمارے عقید ہ کے موافق خدائے تعالیٰ کا بہشتیوں کے لئے یہ وعدہ ہے کہ وہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے پھر تعجب کہ ہمارے علماء کیوں حضرت مسیح کو اس فردوسِ بریں سے نکالنا چاہتے ہیںآپ ہی یہ قصے سُناتے ہیں کہ حضرت ادریس جب فرشتہ ملک الموت سے اجازت لے کر بہشت میں داخل ہوئے تو ملک الموت نے چاہا کہ پھر باہر آویں لیکن حضرت ادرؔ یس نے باہر آنے سے انکار کیا اور یہ آیت سنادی وَ33 ۱؂ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا حضر ت مسیح اس آیت سے فائدہ حاصل کرنے کے مستحق نہیں ہیں کیا یہ آیت اُ ن کے حق میں منسوخ کا حکم رکھتی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس لئے اس تنزّل کی حالت میں بھیجے جائیں گے کہ بعض لوگوں نے انہیں ناحق خدا بنایا تھا تو یہ اُن کا بقیہ حاشیہ۔ ظاہر نہیں ہو گا بلکہ اس اعلیٰ درجہ کے کام کی انجام دہی کے لئے اپنی قوم کی امداد کا محتاج ہو گا۔ اب اوّل ہم ابو داؤد کی حدیث کو اس کے اصل الفاظ میں بیان کر کے پھر جس قدر مناسب اور کافی ہو اپنی نسبت اس کا ثبوت پیش کریں گے سو واضح ہو کہ حدیث یہ ہے عن علی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرج رجل من ورآ ء النھر یقال لہ الحارث حرّاث علیٰ مقدمتہ رجل یقال لہ‘ منصور یُوطن او یمکّن لاٰل محمد کما مکّنت قریش لرسول اللّٰہ صلعم وجبؔ علیٰ کلّ مؤمن نصرہٗ او قال اجابتہ‘ یعنی روایت ہے علی کرم اللہ وجہہ‘ سے کہ کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک شخص پیچھے نہر کے سے نکلے گا یعنی بخارا یا سمر قند اس کا اصل وطن ہو گا اور وہ حارث کے نام سے پکارا جاوے گا یعنی باعتبار اپنے آباو اجداد کے پیشہ کے افواہ عام میں یا اس گورنمنٹ کی نظر میں حارث یعنی ایک زمیندار کہلائے گا پھر آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیوں حارث کہلائے گا اس وجہ سے کہ وہ حرّ اث ہوگا یعنی ممیّز زمینداروں میں سے ہوگا اور کھیتی کرنے والوں میں سے ایک معزز خاندان کا آدمی شمار کیاجاوے گا۔ پھر اس کے بعد فرمایا کہ اس کے لشکر یعنی اس کی جماعت کا سردار وسرگروہ ایکؔ توفیق یافتہ شخص ہو گا جس کو آسمان پر منصور کے نام سے پکاراجاوے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ اس کے خادمانہ ارادوں کا جو اس کے دل میں ہوں گے آپ ناصر ہوگا۔ اس جگہ اگرچہ اُس منصور کو سپہ سالار کے طور پر بیان کیا ہے مگر