اور ان تمام اہل بیت کو اس حدیث کے سُننے سے یہی یقین ہو گیا تھا کہ درحقیقت لمبے ہاتھوں سے اُن کا لمباہونا ہی مراد ہے یہاں تک کہ آنجناب کی ان پاک دامن بیویوں نے باہم ہاتھ ناپنے شروع کئے لیکن جب سب سے پہلے زینب رضی اللہ عنہا نے وفات پائی تب انہیں سمجھ آیا کہ لمبے ہاتھوں سے ایثار اور سخاوت کی صفت مرادہے جو زینب رضیؔ اللہ عنہا پر سب کی نسبت زیادہ غالب تھی۔
اور یہ خیال کہ تناسخ کے طور پر حضرت مسیح بن مریم دنیا میں آئیں گے سب سے زیاد ہ ردّی اور شرم کے لائق ہے تناسخ کے ماننے والے تو ایسے شخص کا دنیا میں دوبارہ آنا تجویز کرتے ہیں جس کے تزکیہ نفس میں کچھ کسر رہ گئی ہو لیکن جو لوگ بکلّی مراحل کمالات طے کرکے اس دنیاسے سفر کرتے ہیں وہ بزعم اُن کے ایک مدت دراز کے لئے مکتی خانہ میں دا خلؔ کئے جاتے ہیں۔
بقیہ حاشیہ۔ قتل کر دے گا وَاللّٰہ اَعْلَمُ بالصواب۔ اور حارث کے نامؔ پر جو پیشگوئی ہے اُس کی علامات خاصہ پانچ بیان کی گئی ہیں۔پہلی یہ کہ وہ نہ سیف کے ساتھ نہ سنان کے ساتھ بلکہ اپنی قوت ایمان کے ساتھ اور اپنے نور عرفان اور برکات بیان کے ساتھ حق کے طالبوں اور سچائی کے بھوکوں پیاسوں کو تقویت دے گا اور اپنی مخلصانہ شجاعت اور مومنانہ شہادتوں کی وجہ سے اُن کے قدم کو استوار کردے گا اسی کے موافق جو مومنین قریش نے مکہ معظمہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو قبول کر کے اور اپنے سارے زور اور سارے اخلاص اور کامل ایمان کے آثار دکھلانے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوئے دعوت کو قوت دیدی تھی اور اسلام کے پَیروں کو مکہ معظمہ میں جما دیا تھا۔
دوسرؔ ی علامت یہ کہ وہ حارث اور وراء النہر میں سے ہو گا جس سے مطلب یہ ہے کہ سمر قندی یا بخاری الاصل ہوگا۔
تیسری علامت یہ ہے کہ وہ زمینداری کے ممیّز خاندان میں سے اور کھیتی کرنے والا ہوگا۔ چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ ایسے وقت میں ظاہر ہوگا کہ جس وقت میں آل محمد یعنی اتقیائے مسلمین جو سادات قوم وشرفائے ملّت ہیں کسی حامی دین اور مبارز میدان کے محتاج ہونگے۔ آل محمد کے لفظ میں ایک افضل اور طیب جزو کو ذکر کر کے کل افراد جو پاکیزگی اور طہارت میں اس جزو سے مناسبت رکھتے ہیں اسی کے اندر داخل کئے گئے ہیں۔ جیساکہ یہ عام طریقہ متکلّمین ہے کہ بعض اوقات ایک جزوکو ذکرکر کے کل اُس سے مراد لیاجاتاہے۔
پانچوؔ یں علامت اس حارث کی یہ ہے کہ امیروں اور بادشاہوں اور باجمعیت لوگوں کی صورت پر