مگر افسوس کہ وہ لوگ بہت تھوڑے ہیں اور اکثر یہی جنس ہماری قوم میں بکثرت پھیلی ہو ئی ہے کہ جو جسمانی خیالات پر گرے جاتے ہیں نہیں سمجھتے کہ خدائے تعالیٰ کا عام قانونِ قدرت جو اس کی وحی اور اس کے مکاشفات کےؔ متعلق ہے صریح صریح اُن کے زعم کے مخالف شہادت دے رہا ہے صدہا مرتبہ خوابوں میں مشاہدہ ہوتا ہے کہ ایک چیز نظر آتی ہے اور دراصل اُس سے مراد کوئی دوسری چیز ہوتی ہے۔ایک شخص کو انسان خواب میں دیکھتاہے کہ وہ آگیا اور پھر صبح اس کا کوئی ہمرنگ آجاتا ہے۔انبیاء کی کلام میں تمثیل کے ساتھ یا استعارہ کے طور پر بہت باتیں ہوتی ہیں دیکھو ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات اُمّہات المومنین کو فرمایاؔ تھاکہ تم میں سے پہلے اس کی وفات ہو گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے
بقیہ حاشیہ۔ فرمایا کہ جب مَیں دنیا میں تھا تو میں اُمیدوار تھا کہ خدائے تعالیٰ ضرور کوئی ایسا آدمی پیدا کرے گا پھر حضرت عبد اللہ صاحب مرحوم مجھ کو ایک وسیع مکان کی طرف لے گئے جس میں ایک جماعت راستبازوں اور کامل لوگوںؔ کی بیٹھی ہوئی تھی لیکن سب کے سب مسلّح اور سپاہیانہ صورت میں ایسی چستی کی طرز سے بیٹھے ہوئے معلوم ہوتے تھے کہ گویا کوئی جنگی خدمت بجالانے کے لئے کسی ایسے حکم کے منتظر بیٹھے ہیں جو بہت جلد آنے والا ہے پھر اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔
یہ رویا صالحہ جو درحقیقت ایک کشف کی قسمؔ ہے استعارہ کے طور پر انہیں علامات پر دلالت کر رہے ہیں جو مسیح کی نسبت ہم ابھی بیان کر آئے ہیں یعنی مسیح کا خنزیروں کو قتل کرنا اور علی العموم تمام کفار کو مارنا انہیں معنوں کی رو سے ہے کہ وہ حجت الہی اُن پر پور ی کر ے گا اور بیّنہ کی تلوار سے اُن کو