کے موافق ہمارے مفسّر اور محدّث اس فقرہ کی یہی تاویل کرتے یعنی یہ کہتے کہ جب مسیح ظہور فرما کر اپنا مسیح موعود ہونا خلق اللہ پر ظاہر کرے گاتو اُس وقت اس کی صحت کی حالت اچھی نہیں ہو گی بلکہ ضرور کسی قسم کی علالت جسمانی اور ضعف بدنی اس کے شامل حال ہو گا جو اسؔ کے ظہورکے لئے ایک خاص وردی کی طرح ایک علامت اور نشانی ہو گی تو ایسی تاویل کیا عمدہ اور لطیف اور سراسر راستی پر مبنی ہو تی لیکن افسوس کہ ہمارے علماء نے ایسا نہیں کیا بلکہ وہ تو اپنی نہایت سادگی اور خام خیالی کی وجہ سے بعینہٖ یہودیوں کی طرح انتظار کر رہے ہیں کہ سچ مچ مسیح
بقیہ حاشیہ۔ ایک دفعہ میں نے اُس بزرگ با صفا کو خواب میں اُن کی وفات کے بعد دیکھا کہ سپاہیوں کی صورت پر بڑی عظمت اور شان کے ساتھ بڑے پہلواؔ نوں کی مانند مسلّح ہونے کی حالت میں کھڑے ہیں تب میں نے کچھ اپنے الہامات کا ذکر کر کے اُن سے پوچھا کہ مجھے ایک خواب آئی ہے اس کی تعبیر فرمائیے۔ مَیں نے خواب میں یہ دیکھا ہے کہ ایک تلوار میرے ہاتھ میں ہے جس کا قبضہ میرے پنجہ میں اور نوک آسمان تک پہنچی ہوئی ہےؔ جب میں اس کو دائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزاروں مخالف اس سے قتل ہوجاتے ہیں اور جب بائیں طرف چلاتا ہوں تو ہزارہا دشمن اس سے مارے جاتے ہیں تب حضرت عبد اللہ صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میری