تو یہ معقول تعبیر ہو گی کہ حضرت مسیح اپنے ظہور کے وقت یعنی اس وقت میں کہ جب وہ مسیح ہونے کا دعویٰ کریں گے کسی قدر بیمار ہو ں گے اور حالت صحت اچھی نہیں رکھتے ہوں گے کیونکہ کتبِ تعبیر کی رو سے زردرنگ پوشاک پہننے کی یہی تاوؔ یل ہے اور ظاہرہے کہ یہی تاویل عالم کشف اور رؤیا کی نہایت مناسب حال اور سراسر معقول اور قریب قیاس ہے کیونکہ تعبیر کی کتابوں میں صاف لکھاہے کہ اگر کسی شخص کی عالم رؤیا یا عالم کشف میں زرد رنگ کی پوشاک دیکھی جائے تو اس کی یہ تعبیر کرنی چاہیئے کہ وہ شخص بیمار ہے یا بیمار ہونے والا ہے کاش اگر اس محققانہ مذاق بقیہ حاشیہ۔ بخوبی کھولی گئی ؔ ہیں اب چاہے کوئی اس کو سمجھے یا نہ سمجھے لیکن آخر کچھ مدّت اَور انتظارکرکے اور اپنی بے بنیاد امیدوں سے یاس کلّی کی حالت میں ہو کر ایک دن سب لوگ اس طرف رجوع کریں گے۔ اِس وقت ان مسیحی علامات کو لکھتے لکھتے مجھے ایک رؤیا صالحہ اپنی یاد آگئی ہے اور بامذاق لوگوں کے مسرور الوقت کرنے کے لئے اُس کو میں اِس جگہ لکھتاہوں:۔ ایک بزرگ غایت درجہ کے صالح جومردان خدا میں سے تھے اور مکالمہ الہٰیّہ کے شرف سے بھیؔ مشرّف تھے اور بمرتبہ کمال اتباع سُنّت کرنے والے اور تقویٰ اور طہارت کے جمیع مراتب اور مدارج کو ملحوظ اور مرعی رکھنے والے تھے اور اُن صادقوں اور راستبازوں میں سے تھے جن کو خدائے تعالیٰ نے اپنی طرف کھینچاہواہوتا ہے اور ؔ پرلے درجہ کے معمور الاوقات اور یاد الٰہی میں محو اور غریق اور اسی راہ میں کھوئے گئے تھے جن کانام نامی عبد اللہ غزنوی تھا