افسوس کہ ہماری قوم کے لوگ استعارات کو حقیقت پرحمل کر کے سخت پیچوں میں پھنس گئے ہیں اور ایسی مشکلات کا سامنااُنہیںؔ پیش آگیا ہے کہ اب اُن سے بآسانی نکلنا ان لوگوں کے لئے سخت دشوار ہے اور جو نکلنے کی راہیں ہیں وہ اُنہیں قبول نہیں کرتے۔مثلًا صحیح مسلم کی حدیث میں جو یہ لفظ موجود ہے کہ حضرت مسیح جب آسمان سے اُتریں گے تو اُن کا لباس زردرنگ کا ہو گا۔ اس لفظ کو ظاہری لباس پر حمل کرنا کیسا لغو خیال ہے زرد رنگ پہننے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی لیکن اگر اس لفظ کو ایک کشفی استعارہ قرار دے کر معبرین کے مذاق اورتجارب کے موافق اس کی تعبیر کرنا چاہیں
بقیہ حاشیہ۔ ایک یہ کہ جب وہ مسیح آئے گا تو مسلمانوں کی اندرونی حالت کو جواُس وقت بغایت درجہ بگڑی ہوئی ہو گی اپنی صحیح تعلیم سےؔ درست کر دے گا اور اُن کے روحانی افلاس اور باطنی ناداری کو بکلی دور فرما کر جواہراتِ علوم وحقائق ومعارف اُن کے سامنے رکھ دے گا یہاں تک کہ وہ لوگ اس دولت کو لیتے لیتے تھک جائیں گے اوراُن میں سے کوئی طالب حق روحانی طور پر مفلس اور نادار نہیں رہے گا بلکہ جس قدر سچائی کے بھوکے اور پیاسے ہیں ان کو بکثرت طیب غذا صداقت کی اور شربت شیریں معرفت کا پلایا جائے گا اور علوم حقّہ کے موتیوں سے اُن کی جھولیاں پُر کر دی جائیں گی اور جو مغز اور لبِ ُ لباب قرآن شریف کا ہے اسؔ عطر کے بھرے ہوئے شیشے اُن کو دئے جائیں گے۔
دوسری علامت خاصہ یہ ہے کہ جب وہ مسیح موعود آئے گا تو صلیب کو توڑے گا اور خنزیروں کو قتل کرے گا اور دجّال یک چشم کو قتل کر ڈالے گا اور جس کافر تک اس کے دم کی ہوا پہنچے گی وہ فی الفور مر جائے گا سو اس علامت کی اصل حقیقت جو روحانی طور پر رکھی گئی ہے یہ ہے کہ مسیح دنیا میں آکر صلیبی مذہب کی شان وشوکت کو اپنے پیروں کے نیچے کچل ڈالے گا اور اُن لوگوں کو جن میں خنزیروں کی بے حیائی اور خوکوں کیؔ بے شرمی اور نجاست خواری ہے اُ ن پر دلائل قاطعہ کا ہتھیار چلاکر ان سب کا کام تمام کرے گا اوروہ لوگ جو صرف دنیا کی آنکھ رکھتے ہیں مگردین کی آنکھ بکلّی ندارد بلکہ ایک بدنما ٹینٹ اس میں نکلا ہوا ہے انکو بیّن حجتوں کی سیف قاطعہ سے ملزم کر کے اُن کی منکرانہ ہستی کا خاتمہ کر دے گا اور نہ صرف ایسے یک چشم لوگ بلکہ ہرایک کافر جو دینِ محمدؐی کو بنظر استحقار دیکھتا ہے مسیحی دلائل کے جلالی دم سے روحانی طور پر ماراجائے گا۔ غرض یہ سب عبارتیں استعارہ کے طور پر واقع ہیں جو اس عاجز پر