چھوٹے بڑے چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ وہ آئے وہ آئے یہاں تک کہ دمشق کے شرقی منارہ پر اُتر آئے اور بذرؔ یعہ زینہ کے نیچے اتارے گئے اور ایک دوسرے سے سلام علیک اور مزاج پُرسی ہوئی۔تعجب کہ یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ دنیا میں کہ ایک دارالابتلاجگہ ہے ایسے معجزات ظہور پذیر ہرگز نہیں ہوتے ورنہ دعوت اسلام ایمان بالغیب کی حد سے باہر ہو جائے۔ہم پہلے اس سے لکھ چکے ہیں کہ کفار مکّہ نے اسی قسم کا کوئی معجزہ ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم افضل الرسل سے بھی مانگا تھا جن کو صاف یہ جواب دیا گیا کہ ایسا ہونا سنت اللہ سے باہر ہے بقیہ حاشیہ۔ جو کئی سال ہوئے کہ مجھے دکھلایاگیا تھا اور اس کشف میں جو میں نے اپنے بھائی صاحب مرحوم کو جوکئی سال سے وفات پا چکے ہیں قرآن شریف پڑھتے دیکھا اور اس الہامی فقرہ کو ان کی زبان سے قرآن شریف میں پڑھتے سُنا تو اس میں یہ ؔ بھید مخفی ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا کہ اُن کے نام سے اس کشف کی تعبیر کو بہت کچھ تعلق ہے یعنی اُن کے نام میں جو قادر کا لفظ آتا ہے اس لفظ کو کشفی طور پر پیش کر کے یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قادر مطلق کاکام ہے اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیئے اس کے عجائبات قدرت اسی طرح پر ہمیشہ ظہور فرما ہوتے ہیں کہ وہ غریبوں اور حقیروں کو عزت بخشتا ہے اور بڑے بڑے معززوں اور بلند مرتبہ لوگوں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ بڑے بڑے علماء وفضلاء اس کے آستانہ فیض سے بکلّی بے نصیب اور محروم رہ جاتے ہیں اور ایک ذلیل حقیر اُمّی جاہل نالائق منتخب ہو کرمقبولین کی جماعت میں داخل کرلیاجاتاہے۔ہمیشہ سے اس کی کچھ ایسی ہی عادت ہے اور قدیم سے وہ ایسا ہی کرتا چلا آیا ہے۔ وذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔ ابؔ میں وہ حدیث جو ابوداؤد نے اپنی صحیح میں لکھی ہے ناظرین کے سامنے پیش کر کے اس کے مصداق کی طرف ان کو توجہ دلاتا ہوں۔ سو واضح ہو کہ یہ پیشگوئی جو ابوداؤد کی صحیح میں درج ہے کہ ایک شخص حارث نام یعنی حرّ اث ماوراء النہر سے یعنی سمر قند کی طرف سے نکلے گا جو آل رسول کو تقویت دے گا جس کی امداد اور نصرت ہریک مومن پر واجب ہوگی۔ الہامی طورپر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہو گا۔ دراصل یہ دونوں پیشگوئیاں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق یہی عاجز ہے۔ مسیح کے نام پر جو پیشگوئی ہے اس کی علامات خاصہ درحقیقت دو ہی ہیں