حالانکہ وہ بجائے خود اپنے تئیں معذور سمجھتے تھے کیونکہ اُن کی بائبل کے ظاہری الفاظ پر نظر تھی۔ افسو سؔ کہ ہمارے مسلمان بھائی بھی اسی گرداب میں پڑے ہوئے ہیں اور حضرت مسیح کی نسبت یہودیوں کی طرح اُن کے دلوں میں بھی یہی خیال جماہوا ہے کہ ہم اُنہیں سچ مچ آسمان سے اُترتے دیکھیں گے اور یہ اعجوبہ ہم بچشم خود دیکھیں گے کہ حضرت مسیح زردرنگ کی پوشاک پہنے ہوئے آسمانؔ سے اُترتے چلے آتے ہیں اور دائیں بائیں فرشتے اُن کے ساتھ ہیں اور تمام بازاری لوگ اور دیہات کے آدمی ایک بڑے میلہ کی طرح اکٹھے ہو کر دُور سے اُ ن کو دیکھ رہے ہیں اور
بقیہ حاشیہ۔ فیہ اختلافًا کثیرًا۔ قل لو اتبع اللّٰہ اھواء کم لفسدت السمٰوات والارض ومن فیھن ولبطلت حکمتہ وکان اللّٰہ عزیزًاحکیمًا۔ قل لو کان البحر مدادًا لکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہٖ مددًا۔ قلؔ ان کنتم تحبون اللّٰہ فاتبعونی یحببکم اللّٰہ وکان اللّٰہ غفورا رحیما۔پھر اس کے بعد الہام کیاگیا کہ ان علما ء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں میری پرستش کی جگہ میں اُن کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں (ٹھوٹھیاں وہ چھوٹی پیالیاں ہیں جن کو ہندوستان میں سکوریاں کہتے ہیں۔ عبادت گاہ سے مراد اس الہام میں زمانہ حال کے اکثر مولویوں کے دل ہیں جو دنیا سے بھرے ہوئے ہیں )۔ اس جگہ مجھے یاد آیا کہ جس روز وہ الہام مذکور ہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہواتھا اس روز کشفی طورپر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے اِنؔ فقرات کوپڑھا کہ انا انزلنٰہ قریبًا من القادیان تو میں نے سُنکر بہت تعجب کیا کہ کیاقادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھاہوا ہے تب مَیں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طورپر قادیان کانام قرآن شریف میں درج ہے اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیاگیاہے مکہ اورمدینہ اور قادیان یہ کشف تھا